بہن کا شوہر قسط نمبر 7
اگلے دن ابو کے سامان کی پیکنگ شروع ۔ میں نے ایک بات نوٹ کی ۔ امی کا چہرہ سپاٹ تھا ۔ ان پر کوئی تاثر نہیں تھا ۔ جیسے خواتین کے شوہر پردیس جا رہے ہوں تو وہ افسردہ ہوتی ہیں لیکن امی پہلے ہی کی طرح تھیں ۔ شاید ابو کا پاس ہونا اور نا ہونا انکے لیے برابر تھا ۔
اگلے دن لنچ کر تے وقت ابو نصیحتیں کرتے رہے ۔ کہ گھر کا خیال رکھا کرو اب بڑے ہو چکے ہو ۔ تو روچی آپی نے لقمہ دیا کہ ابو فکر نہ کریں بھائی بہت میچور ہو چکا ہے ۔ میرا اور امی کا خیال رکھتا ہے آئندہ بھی رکھا کرے گا ۔ کیوں امی ؟
امی نے بھی تائید میں سر ہلایا کہ کامی کی وجہ سے کافی سہارہ رہتا ہے ۔ شاید روچی آپی اب سے امی کو میری طرف مائل کرنا شروع کر دیا تھا ۔
لنچ کر کے میں اور ابو اسلام آباد کے لیے نکل پڑے ۔ راستے میں بھی ابو نصیحتیں کرتے رہے ۔ کچھ حساب کتاب کی باتیں زمین و غیرہ کی ۔ یوں ہم اسلام آباد پہنچے گئے ۔
وہاں ہم نے ایک ہوٹل سے چائے پی ۔ اور آئیر پورٹ پر چلے گئے ۔ ابو کو سی آف کیا اور گھر کو چل پڑا ۔
راستے میں روچی آپی اور امی کا دو بار فون بھی آیا ۔ کیونکہ اندھیرا پھیل رہا تھا اس لیے انکو میری ٹینشن تھی ۔
تقریبا 7 گھنٹے کی ڈرائیونگ کر چکا تھا میں ۔ گانڈ ڈنڈے کی طرح سیدھی ہو چکی تھی ۔ جیسے انگلش کا محاورہ ہے بنڈ بندوکڑی ہونا یعنی بندوق کی طرح سیدھی ہونا ۔
گھر آیا تو دونوں میرے پاس بیٹھ گئیں سفر کے حالات پوچھے پھر سب نے مل کر کھانا کھایا ۔
اگلے دن امی اور روچی کچن میں تھے میں بھی چلا گیا ۔ سائیڈ پر سٹول لیکر بیٹھ گیا ۔ امی کے فون کی رنگ بجی وہ اپنے کمرے کی طرف چلی گئیں روچی آپی نے مجھے چائے کا کپ پکڑایا ۔ ابھی دوسرا گھونٹ ہی پی رہا تھا کہ روچی آپی کی آواز آئی ۔
کامی تم چاٹ لیتے ہو ؟
ہیں ؟ کیا ؟ میری چائے گرتے گرتے بچی ۔ لیکن جو منہ میں چائے تھی اس کی وجہ سے معمولی سی کھانسی آگئی ۔
شہید کا پوچھ رہی ہوں گندے ۔ روچی آپی نے شرارتی لہجے میں کہا
اب میں اتنا بھی بچہ نہیں تھا جو آپی کا اشارہ نہ سمجھتا ۔
میں نے کہا ہاں ہاں کیوں نہیں ۔
اسی وقت روچی آپی مڑی اور مجھے شہد کی بوتل دی ۔
اور میں نے بوتل پکڑ کر کہا اسکا ( بوتل ) سوراخ تنگ سا ہے ۔
روچی آپی نے کہا : تاکہ آہستہ آہستہ شہید آئے کہیں ضائع نہ ہو جائے ۔ اگر شہد نہیں آرہی تو زبان ڈال کر چاٹتے ہیں بیٹا جی ۔
میرے منہ سے دو تین قطرے شہد کے گر گئے ۔ روچی آپی ہنس پڑی کامی تمھیں تو چاٹنی بھی نہیں آتی ۔ کیا بنے گا تمھارا ؟
میری بہن مجھے چاٹنے دے گی یا نہیں اسکا پتا نہیں البتہ مجھے ترسا بہت رہی تھی اسکا مجھے بہت پتا ہے ۔
امی ، ابو کے ساتھ بات کر رہیں تھیں میں فورا اٹھا اور روچی کو گلے لگایا ۔
آگے سے روچی آپی کہنے لگی آئے بہن صدقے بہن واری اتنا جوش ؟
میں نے کہا بس ایک موقع دے دو ۔ پھر دیکھنا ۔
روچی نے کہا کہ آج میرے روم میں آنا ۔ لیکن خیال سے ۔
میں ہواوں میں لہراتا ہوا پورے گھر میں گھوم پھر رہا تھا ۔
رات آئی اور پھر جوان بھائی اپنی بہن کے کمرے کی طرف چلا گیا ۔ ارادہ نیک ہی تھا بس “ شہید چاٹنے “ کی ٹریننگ لینی تھی ۔
کچھ دیر بانہوں میں پڑے رہے ۔ اس پہلے کہ آپی کو زور سے اپنے ساتھ چپکاتا ۔ روچی آپی نے میرا سر اپنی ٹانگوں کی طرف دبانا شروع کر دیا ۔
اور میں آہستہ آہستہ نیچے اسکے ٹانگوں میں گیا تو حیرت کا جھٹکا لگا کیونکہ ٹراوز اترا ہوا تھا ۔
روچی نے بس قمیض ہی پہن رکھی تھی ۔ یہ بے ہودگی ہے یور آنر ۔ میرے ساتھ نا انصافی ہے ۔ دل تو تھا اسکو کہوں شرم کرے اور ٹراوز پہن لے تاکہ میں اسکو اپنے ہاتھوں سے اتاروں ۔
لیکن
میں خون کے گھونٹ پی گیا ۔ بھائی لوگوں کی قسمت میں بس بہنوں کے ناز نخرے ہی ہیں اورظلم سہنا روایت ۔
میں نے اس کی نرم و مرائم پنڈلیوں پر کِس کی اور پھر اوپر کی طرف بڑھنے لگا ۔ جونہی اس کی گوری چٹی گول گول رانوں پر کس کی تو اسکا جسم تھرتھرایا ۔
میں رانوں پر وغیرہ پر ٹائم ضائع نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ ٹائم کی قدر کرنی چاہیے ۔ گزرا ٹائم پھر ہاتھ جو نہیں آتا ۔
خیر میں رانوں سے سیدھا میرے سب سے پسندیدہ ترین حسین ترین حصے سے صرف 3 یا 4 انچ دور تھا ۔ وہ حصہ تھا روچی آپی کی پھدی ۔
میں نے اس پر کس کرنے سے پہلے آہستہ سے گرم سانسیں لیں جو سیدھا پھدی پر محسوس ہو رہی تھیں ۔ میں نے روچی آپی کی طرف دیکھا تو انکی آنکھیں آدھی کھلی آدھی بند تھیں ۔
وہ آنے والے وقت کا سوچ کر مدہوش ہو چکی تھی ۔ میرے دو تین گرم سانسیں اس سے برداشت نہیں ہوئی اور خود ہی پھدی اٹھانے لگی ۔ تاکہ اپنے بھائی کے منہ دے سکے ۔
میں روچی آپی کو زیادہ تڑپتا ہوا نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ یہ غیر اخلاقی بھی ہے اور گناہ بھی ۔
چنانچہ تھوڑی سے زبان نکال کر روچی آپی کی پھدی پر بس رکھی ۔ اسکے جسم نے پھر جھٹکا کھایا بلکہ کانپ گئی ۔
میں نے پورن فلم میں ہی انگلش ایکٹریس کی ایسی پھدی دیکھی ہے ۔ گہری سے لکیر اور پنک کلرکی پھدی ۔ میں نے اب زبان کی نوک پھدی کی لائن میں رکھی اور اس لائن میں نیچے اوپر پھیرنے لگا ۔ روچی آپی کی اب باقائدہ سسکاریاں آنے لگیں ۔
کامی میری جان آہ ہ ہ ہ کامی
میں نے اب پھدی کو چاٹنا شروع کیا ۔ ساتھ کسی کسی وقت ہاتھ کا انگوٹھا بھی پھیرتا ۔ جب کافی ساری تھوک لگ گئی تو میں نے پھدی کے سوراخ میں زبان کی نوک ڈالی ۔ جہاں تک جا سکتی تھی آگے کی ۔
اب سب کچھ نمکین ہو چکا تھا ۔ میں نے وہ پھدی سارا گیلا پن پینے کے بجائے زبان اور ہونٹوں تک ہی رکھا ۔
آپی میں صحیح چاٹ رہا ہوں ناں ؟
بس یہی کہنا تھا روچی نے میرے سر کو دونوں ہاتھوں سے تھام لیا اور پھدی کے اوپر دبانے لگی ۔
مجھے بھی سمجھ آگئی منزل قریب ہے اسلیے زبان کی حرکت تیز اور گہری کر دی ۔
زیادہ سے زیادہ 20 سیکنڈ بعد پھدی کا سوراخ تھوڑا سا کھلا اور پانی نکلنے لگا ۔روچی آپی کا جسم زور سے کانپنے لگا ۔ لیکن اس نے میرا سر اپنے ہاتھوں سے نہیں چھوڑا ۔ کئی جھٹکے کھا کر اس کو سکون آیا ۔ موقع اچھا تھا میں نے جونہی اپنی انگلی کی نوک پھدی کے سوراخ پر رکھی تو اٹھ کر بیٹھ گئی اور سر نفی میں ہلا کر مجھے منع کر دیا ۔
یہ کیا بہن یکی ہے ۔
اس نے اسی طرح میرے سر کو اپنی طرف کھینچا جیسے مجھے اپنے پاس بلا رہی ہو ۔ جونہی اسکے منہ کے قریب گیا روچی آپی نے زور سے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دیے ۔
1 منٹ کس کرنے کے بعد بس یہی کہا ۔
اس میں جب بھی جائے گا تمھارا یہ وحشی جائے گا ۔ اس سے پہلے کوئی چیز نہیں لے سکتی ۔
دیکھا کتنی اچھی ہے میری بہن کتنا خیال رکھتی ہے ۔ کتنا پیار کرتی ہے ۔
آپ لوگ خامخواہ مجھے اسکے خلاف بھڑکا رہے تھے ۔
اس رات ہم کافی دیر ایسے لیٹے رہے ۔ ضد کر کے ممے چوسے اور پھر روچی آپی نے خود ہی کہا کہ آجاو میری ٹانگوں میں اوپر رگڑ کر فارغ ہو جاو ۔ پھر کہو گے میری بہن میرا سوچتی نہیں ہے ۔ میں اپنی بہن کی دریا دلی پر واری واری ہو گیا تھا ۔
میں نے پھدی کے اوپر ہی لن رکھا اور جب دیکھا تو ناف سے اوپر تک اسکی ٹوپی جا رہی تھی ۔ روچی مسکرا کر کہنے لگی ۔ پتا نہیں کیا بنے گا میرا جب یہ وحشی اندر اترے گا ۔
خیر کچھ دیر لن کو پھدی کے اوپر رکھ کر رگڑتا رہا ۔ سچ کہوں تو کئی بار دل کیا کہ اندر گھسیڑ دوں لیکن آپی کی چیخ اور سب سے بڑی چیز انکا اعتماد بکھر جاتا ۔ روچی آپی نے بھی ٹانگوں کو لاک کر لیا اور گرم گرم ڈائیلاگ بول کر میرے لن میں جوش پیدا کر دیا ۔ وہ خود بھی ایک بار پھر فارغ ہو گئی اور پھسلن بننے سے میں بھی 8 دس منٹ میں روچی آپی کی پھدی کے اوپر ہی فارغ ہو گیا ۔ اندر نہیں کیا ۔ ہم زبان کے پکے لوگ ہیں صاب ۔ جرمن کہاوت ہے : "جو ایک بار کمٹمنٹ کر لی پھر اپنے آپ کی بھی نہیں سنتا "جب ہم نے کپڑے پہن لیے تو مجھ پر روچی آپی نے زندگی کی سب سے بڑی اور سخت ترین پابندی لگا دی ۔
کامی اب بس ۔۔۔۔ اب جب قسمت میں ہوا تو کریں گے ۔ اب تمھیں امی کا سوچنا ہے ۔
میں نے بڑی تسلیاں دیں کے میں ان کو بھی دیکھ لوںگا لیکن آپ مجھے خود سے دور نہ کریں ۔ لیکن روچی اب سیریس ہو چکی تھی ۔ اور اسی ٹون میں کہا enough kami ۔ اب جو کہا ہے اس پر دھیان کرو ۔
میرا سارا نشہ ہرن ہو چکا تھا ۔ خاموشی کی ایک دیوار قائم ہو چکی تھی ۔ جس کو روچی آپی نے ہی توڑا اور میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر کہنے لگیں ۔
میں نے امی کو مائل کرنا شروع کر دیا ہے ۔ کچھ ٹائم لگے گا ۔ میں دو ہفتے ہوں مظفر آباد ۔ کوشش کرتی رہوں گی انکا زہن بناتی رہوں گی ۔ تم بھی اپنی کوشش کرو ۔
آئندہ کے بعد ہمارے درمیان امی کے موضوع پر بھی بات نہیں ہوگی ۔ انہوں نے کیا کہا ، کیا کیا ، تم نے کیا کہا کیا پلان بنایا وغیرہ سب کچھ تم جانو اور وہ ۔ مجھے بس وہ خوش اور مکمل نظر آنی چاہیں ۔
پر میں ۔۔۔۔۔۔ میں کچھ کہنا ہی چاہتا تھا کہ روچی آپی میرے گلے لگ گئی اور سچ مچ میں رونے لگیں ۔
آنسووں میں گوندھی ہوئی آواز میں کہا کہ دنیا کی خوش نصیب عورت ہوتی ہے وہ جسکا چاہنے والا اس کے ساتھ وفاداری کرے ۔ مجھے پتا ہے کامی تم میرے ساتھ وفادار ہو ۔ میرے لیے بھی یہ سخت ہے اسلیے میں اس موضوع پر آئندہ بات نہیں کروں گی ۔
امی کو انکا حق دو میری جان ۔ سیکس ہو یا نہ ہو لیکن میری طرح وہ خوش تو ہو سکتی ہیں ناں ۔ ان کو بھی احساس دلاو کہ کوئی چاہنے والا ان کی کئیر کرتا ہے ان کو خوش کرنے کے لیے کچھ بھی کر سکتا ہے ۔
اس کے بعد میں اور روچی آپی نا چاہتے ہوئے بھی دور ہونے لگے ۔ ان کہی سی دیوار اور حد بندی ہو چکی تھی ۔ بات چیت کرتے مزاق بھی کرتے ۔ لیکن ایک حد تک ۔
ہفتہ بہت مصروف اور گھٹیا گزرا ۔ یونیورسٹی میں ایڈمیشن اور پھر مریو کو سکول داخل کروایا ۔
کھانا وغیرہ کھا کے گھر سے باہر چلا جاتا وہاں سے جیم پھر رات پھر کچھ سٹڈی اور پھر اگلی صبح یہی روٹین ۔
اگلے ہفتے روچی آپی نے بھی تیاری پکڑی ۔ ان کے ڈاکیومنٹس لیگل لیٹرز اور این او سی وغیرہ لانا اور کچھ زمین کے ٹھیکے کے سلسلے میں دو تین پارٹیوں سے بات چیت چلتی رہی ۔
میں خود کو سزا دینے لگا تھا ۔ نہیں جانتا تھا کیوں ۔ سٹیمنے سے زیادہ ورزش کبھی کبھار سموکنگ یہاں تک کے دو تین بار چرس بھی پی ۔ لیکن پھر دوبارہ ہاتھ نہیں لگایا ۔ بس بے قراری تھی جو کہ ختم نہیں ہو رہی تھی ۔
لیکن ان دو ہفتوں میں امی ایک حد میں رہتے ہوئے میرے نزدیک ہی ہوئیں ۔ اور میرے نزدیک میرے جسم کے لیے نہیں بلکہ میری کمپنی کے لیے ہوئی تھیں ۔ انکو میرے لطیفے کمنٹس لوگوں پر جملے کسنے بہت پسند تھے ۔ روچی آپی نے ان کو ڈائٹنگ پر لگا دیا تھا ۔ اور میرے سامنے ہی کہا فٹنس کے لحاظ سے کامی مجھ سے بہتر جانتا ہے ۔
روچی آپی کو اسلام آباد میں خود چھوڑنے گیا ۔تاکہ ہوسٹل وغیرہ دیکھ سکوں ۔ ویسے تو ہمارے کافی رشتے دار ہیں اسلام آباد ۔ لیکن نا ہی روچی کو پسند تھا کسی رشتے دار پر بوجھ بننا اور نا ہی ہم سب گھر والوں کو ۔ اس لیے ہوسٹل کے نام پر ایک چھوٹے سے گھر کا بندوبست ہو گیا تھا جس میں 3 خواتیں پہلے ہی رہ رہی تھیں ۔ ایک سٹوڈنٹ تھی اور تو بڑی عمر کی تھیں جو مختلف دفاتر میں نوکری کرتی تھیں ۔ لیکن تھیں سب پڑھی لکھی ۔
خواتین نے میری طرف اشارہ کر کے روچی سے پوچھایہ کون ہے ؟ تو روچی نے کہا یہ میرے ہسبینڈ ( شوہر ) ہیں ۔ رخصتی نہیں ہوئی البتہ نکاح ہوا ہے ۔
یہ بہت ہی بولڈ سٹیپ تھا ۔ ہم پکڑے بھی جا سکتے تھے ۔ بارحال مجھے شیکسپئیر کی وہ خوبصورت لائن یاد آگئی کہ " تم نے چھیڑی دل کی ستار کہ دل باغ باغ ہو گیا ۔ میری کشتی تھی ڈوبی جہاں پانی کم تھا " میں کافی دیر تک روچی کے الفاظ کا مزاہ لیتا رہا کہ یہ میرے ہسبینڈ ہیں ۔
مجھے تو ماحول ٹھیک لگا اب روچی کا پتا نہیں گزارہ ہوتا ہے یا نہیں ۔ اسکا سامان اتارا ۔ پھر روچی کے ساتھ مل کر اسکے کمرے کی سیٹنگ کی ۔ بازار سے کچھ چیزیں خرید کر دیں ۔ وین والے کے ساتھ فون پر بات کی ۔ معاملات طے ہوئے ۔ پھر ہم باہر اسلام آباد چلے گئے لنچ کرنے جا رہے تھے تو میں نے کار ایک سائڈ پر لگا دی ۔ روچی نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا ۔ ۔۔۔
میں نے کہا ملو گی نہیں ؟ آخری بار ؟
روچی نے کہا کامی خدا کے لیے ایسا مت کہو ۔ ابھی نہیں ملوں گی بس ۔
تم چلو کسی ہوٹل ۔
ہوٹل آکر ہم نے کھانا کھایا میرا تو بالکل دل نہین تھا ۔ وہ تو پہلے ہی ٹوٹ چکا تھا ۔ واپس اسکے کواٹر میں آئے تو گلی میں خواتین و بچے تھے ۔ روچی کار سے اتری اور مجھے بھی باہر آنے کا کہا ۔
میں کار سے اترا تو روچی بھاگتی ہوئی میری سائیڈ پر آئی اور مجھے گلے لگا لیا ۔
پاکستان میں ایسا نہیں ہوتا ۔ لوگ گھوریاں ڈالتے ہیں ۔ بلکہ بعض تو ایسے دیکھتے ہیں جیسے یہی کنڈوم لاکر دیں گے کہ شاید یہاں سیکس ہونے والا ہے ۔
بارحال میں بھی روچی کو اچھے طریقے سے ملا اس نے مجھے گالوں پر کس کی ۔ اور کافی زمانہ اسکا گواہ تھا ۔
پھر میں مظفر آباد واپس آگیا ۔
DTijCmU5aS98c6gihFDmkSUmKgTCXBGHrXrHXJv61aXf
کہتے ہیں وقت بڑے سے بڑے زخم پر بھی مرہم رکھ دیتا ہے ۔ روچی آپی کے مطابق وہ کئی دنوں تک روتی رہیں ۔ لیکن پھر صبر آہی گیا کیونکہ فیصلہ بھی انہی کا تھا ۔ میں بھی کچھ دن مجنوں بنا رہا ۔ لیکن امی کے ساتھ کمپنی نے مجھے کسی انتہائی قدم اٹھانے سے باز رکھا ۔
میں اگر فارغ ہوتا تو انکے ساتھ انکے کاموں میں مدد کرتا ۔ صبح یونیورسٹی جاتا مریم کو ساتھ لے جاتا ۔ واپسی پر اسکو سکول سے گھر چھوڑتا ۔ خود بھی کچھ ریسٹ کرتا یا امی کا ہاتھ بٹاتا پھر شام پھر جیم پھر رات کو سٹڈی روچی آپی سے کال پر باتیں اور پھر ایک نئی صبح ۔
مریم مجھے بھائی کے بجائے پاپا بولنے لگی ۔ پہلے ایک دو بار میں نے اور امی نے منع کیا لیکن وہ پاپا ہی کہتی ۔ امی سمجھیں شاید پاپا یہاں رہ کر گئے ان کو مس کر رہی ہے ۔ اس لیے اسکو دوبارہ نہیں ٹوکا ۔
امی کے ساتھ اب میں ہی جاتا شاپنگ پہ بازار یا ایک دو بار پارک ۔ ۔ اب میں نے آہستہ آہستہ ان کو اپنے ٹچ کا عادی بنا دیا تھا ۔ چہرے پر کس بھی کر لیتا ۔
موسم اب بدل چکا تھا سردی اب بہار میں داخل ہو چکی تھی ۔ موسم بارش والا تھا ۔
میرا آج یونیورسٹی جانے کو دل نہیں تھا ۔ مریو کو سکول چھوڑا اور گھر آگیا ۔
امی کچن میں ناشتے والے برتن دھو رہی تھیں ۔ میں بھی ان کے ساتھ لگ کے کھڑا ہو گیا اور کہا امی کوئی کام والی رکھ لیں ناں ۔
امی نے کہا چل ہٹ میں ابھی بوڑھی نہیں ہوئی ۔ میں خود کر سکتی ہوں ۔ روچی کے جانے سے فرق تو پڑا ہے لیکن کوئی بات نہیں بندہ فٹ رہتا ہے ۔
میں نے بھی کہا امی کس نے کہا آپ بوڑھی ہیں ۔ آپ تو ماشاء اللہ درمیانی عمر کی خوبصورت عورت ہیں ۔ ( یہ سچ بھی تھا ۔ امی اپنی عمر سے 5 یا 7 سال کم ہی لگتی تھیں ۔ یعنی 38 کی تقریبا ۔ )
یہ کہتے ہوئے میں امی کے پیچھے ہو گیا اور انکو پیچھے سے ہی ہلکا سا ہگ کیا ۔ اور کہا میری امی تو دنیا کی پیاری ترین امی ہیں ۔
امی نے اسی وقت پانی کے چھینٹے میرے منہ پہ مارے اور ہنسنے لگیں ۔ مکھن نا لگاو کامی کام بتاو ۔
میں نے بھی انکو نہیں چھوڑا بلکہ ہنستے ہوئے اور تھوڑا قریب ہو گیا کہا مجھے آپ کی قسم امی مکھن نہیں لگا رہا ۔ یہ تو کلئیر ہو گیا نا ۔ اب رہی بات کام کی تو آج بارش ہونے والی ہے کیوں نا کڑہی پکوڑے ہو جائیں ؟
امی اب بیسن کو بھی ٹاکی لگا کر صاف کرنے لگیں اور کہنے لگیں ۔
ہممممم اسی لیے میری تعریف ہو رہی تھی ۔
میں نے بھی بنواٹی غصے سے انکو زبردستی اپنی طرف موڑا اور منہ بناتے ہوئے کہا ۔
دل توڑ چھڈیا ای رسکانہ ( رخسانہ ) میں تہاڈے سر دی قسم چکی سی ۔ اور ساتھ ہی رونے کی ایکٹنگ ۔
امی اب تقریبا میری بانہوں میں ہی تھیں اور اپنا نام رخسانہ سے رسکانہ بگڑتا دیکھ کر ہنس رہی تھیں ۔ کامی تم نے یہ نام کہاں سے سوچ لیا ۔ بدمعاش کتنا دماغ چلتا ہے تمھارا ۔ ۔۔۔
میں نے برجستہ جواب دیا ۔ آپ کا ہی بیٹا ہوں زہین تو ہوں گا ہی ۔
پھر میں نے امی کو چھوڑ دیا اور جان بوجھ کر تھوڑا دور ہو گیا ۔ امی نے بھی کہا اللہ کرے بیٹا زہین مجھ سے ہو لیکن نصیب مجھ سے نہ ہوں ۔
اب میں سیریس ہوکر امی کی طرف بڑھا اور انکو گلے لگا لیا ۔ اوئے میری شہزادی امی
اتنی بڑی بات کیسے کہہ دی ؟ کیا ہوا آپ کے نصیبوں کو ؟
امی اب کچھ دیر خاموش رہیں ۔ پھر جواب دیا کہ کچھ نہیں ایسے ہی کہہ رہی تھی ۔
شاید وہ مجھے ٹالنا چاہ رہیں تھیں ۔ میرے لیے یہ اچھا موقع تھا ان کو سہارے کا احساس دلانا تھا ۔
میں نے بھی اب سکیم نمبر 120 چالو کی ۔ یعنی ڈائیلاگ والی سکیم ۔ جو کہ میرے لن پہ لکھے رہتے ہیں ۔
نہیں میری جان میری امی ۔
آپ اگر سمجھتی ہیں کہ کامی اس گھر کا مرد ہے اور سمجھدار ہے تو بتائیں پلیز کیوں کہہ دی اتنی بڑی بات ؟
اب میں امی کے چہرے کے اتار چڑھاو دیکھ رہا تھا ۔ انکو بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اس مسلے کو کیسے ہنڈل کروں یا کامی کو کیسے ٹالوں ۔
پھر اچانک انہوں نے کہا عجیب ہی تو قسمت ہے ۔ گھر والا باہر بیٹھا ہے ۔ اس لیے کہا ایسا ۔
سب سمجھ رہا تھا کامی کو اچھا بھلا چونا لگا دیا امی نے خیر کوئی بات نہیں ۔
مرزا غالب نے کہا تھا کہ عورت شیطان کی خالہ ہوتی ہے ۔ بعد میں اس محاورے سے عورت و شیطان کو نکال کر بلی اور شیر ڈال گیا ۔
امی نے ایسے ہی پینترا بدل لیا تھا ۔ میں نے کہہ دیا کہ کوئی بات نہیں امی افسردہ نہ ہوں ۔ میں جو ہوں آپ کے پاس ۔ مجھے بتائیں کیا گفٹ خرید کر دوں ؟
فی الحال تو پالک اور دہی لا دو ۔ تاکہ کڑہی پکوڑے بناوں ۔
میں نے کہا جی میں لے آتا ہوں ۔
گھر کے پاس سے ہی پالک اور دہی کی دکان ہیں ۔ابھی سامان لے رہا تھا کہ بارش شروع ہو گئی ۔ تیزی سے واپس آیا لیکن پھر بھی بھیگ گیا تھا ۔ تب میں نے لٹھے کی سفید شلوار اور اوپر گرے کلر کی قمیض پہنی تھی ۔
میں نے گھر آتے ہی قمیض اتار دی اور امی سے کہا آجائیں بارش انجوائے کرتے ہیں لان میں ۔
امی نہیں مانی میں انکو زبردستی لان میں لے آیا ۔
وہ کہتی رہیں نہیں کامی ٹھنڈ لگ جائے گی ۔ لیکن میں پھر بھی لان میں لے آیا ۔۔۔۔
کچھ دیر بارش میں بھیگے ۔ امی کے کپڑے انکے جسم سے چپک چکے تھے ۔ جسم کا ایک ایک حصہ صاف اور الگ الگ نظر آنے لگا ۔ بلیک کلر کی برا تو سب سے الگ ہی نظر آرہی تھی ۔
میرا لن بھی کچھ ہفتوں سے بھوکا تھا یہ سین دیکھ کر نیچے کی طرف لمبا ہونا شروع ہوا ۔
امی بار بار مین گیٹ کی طرف دیکھ رہیں تھیں شاید ڈر تھا کوئی اوپر سے آ نا جائے ۔
میں نے کہا شاید تیز ہوا چلے گی گیٹ بجتا رہے گا میں لاک کر آتا ہوں ۔
امی کا جواب سنتے بغیر ہی گیٹ کی طرف لپکا اور اس کو بند کر دیا ۔
جب میں واپس آرہا تھا امی مجھے ہی دیکھ رہی تھیں ۔ انکی نظر میرے لن پر پڑی ۔ یہاں تک میں نے امی کو دیکھا اور فورا میں باونڈری وال کی طرف دیکھنے لگا ۔
تاکہ امی جی بھر کر لن کا نظارہ کر لیں ۔
سیمی اریکٹڈ یعنی ادھا کھڑا لن جھول رہا تھا ۔ امی کے بالکل پاس پہنچنے سے پہلے میں نے پھر امی کو دیکھا تو انکی نگاہیں ابھی تک لن پر ہی تھیں ۔
میں امی کو شرمندہ نہیں کرنا چاہتا تھا اسلیے دوسرے رخ دیکھتے ہوا کہا امی پکڑن پکڑائی کھیلیں ؟
امی میری آواز سے چونکیں اور فورا میرے چہرے کو دیکھا اور میں تو کہیں اور دیکھ رہا تھا ۔
نہیں تم ٹھہرے پھرتیلے ۔ میں کیسے بھاگ سکتی ہوں ۔ امی نے جواب دیا
میں نے کہا
کیا بات کر دی رسکانہ جانی ۔ میرے آنکھوں پر پٹی ہوگی ۔
امی پھر ہنسنے لگی ۔ اور کہنے لگی اچھا باندھو کپڑا اپنی آنکھوں پہ ۔۔۔۔
میں نے ایک کپڑا ہلکا سا اپنی آنکھو پر باندھ لیا ۔ حلانکہ مجھے دکھائی دے رہا تھا ۔ لیکن ایسسے شو کروا رہا تھے جیسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا ۔
امی اب آگے آگے اور غریب کامی انکی 40 انچ کی باہر کو نکلی ہوئی گانڈ دیکھتا رہا ۔
میں نے جان بوجھ کے کہا تھوڑی آواز نکالیں تاکہ مجھے سمت کا پتا چلے ۔
پھر امی مجھے پکارتیں میں دوڑ کے وہاں جاتا ۔ تو وہ کہیں اور چلی جاتیں اور جب بھاگتی تو انکی بھاری گیلی ہپس عجیب ہی نظارہ دے رہی تھی ۔
اس سے میرا لن مزید کھڑا ہو گیا اب باقائدہ شلوار کے آگے تمبو سا بن گیا ۔
جب میں نے امی کو دیکھا تو وہ میرے لن کو ہی دیکھ رہی تھیں ۔
میں نے فورا تیز قدم اٹھائے اور دھڑم سے امی کے اوپر ۔
وہ گرتے گرتے بچیں لیکن میری گرفت میں آگئیں ۔
میرے لن کا ٹوپہ سیدھا انکے پیٹ کو لگا میں نے جان بوجھ کے اپنی ہپس کو پیچھے کر لیا جیسے میں چاہتا ہوں کہ لن بالکل نا ٹکرائے ۔
اب میں نے امی کی آنکھوں پہ پٹی باندھی اور جان بوجھ کر ہلکی باندھی ۔ تاکہ وہ بھی دیکھ سکیں ۔ اپنی جوان اولاد کے کرشمے ۔
میں نے پوچھا امی نظر تو نہیں ارہا ؟
امی : نہیں بالکل ٹائٹ ہے یہ ( آنکھوں پر کپڑا )
میں : آپ کو ٹائٹ نہیں پسند ؟ ( لن )
میں نرم کر دوں ؟
امی : نہیں ٹھیک ہی ہے ٹائٹ سہہ
میں نرم کر دوں ؟
امی : نہیں ٹھیک ہی ہے ٹائٹ سہہ لوں گی ۔۔۔۔۔
میں : امی موٹا بھی ہے اور ٹائٹ بھی ۔ دیکھ لیں کہیں درد نا ہو ۔
امی : کوئی بات نہیں کامی ۔۔۔
اب میں نہیں جانتا تھا وہ کپڑے کی بات کر رہی ہیں یا لن کی ۔
بارحال مزہ بہت آیا ۔
اب میں آگے تھا امی پیچھے ۔ میں نے جان بوجھ کر دوسری طرف دیکھتے ہوئے بے دھیانی میں لن پر خارش کرنا شروع کر دی ۔
جونہی لن ہاتھ میں پکڑا تو لٹھے کی شلوار پہلے ہی بارش سے گیلی تھی ۔ ایسے لگ رہا تھا جیسے ننگا لن ہاتھ میں پکڑا ہوا ہے ۔
مجھے یقین تھا لن کا سائز اور حدود اربع امی نے بھی دیکھ لیا تھا ۔
کیونکہ انکے قدم وہیں جام ہو گئے اور میں جان بوجھ کر کہیں اور دیکھ رہا تھا ۔
میں امی کے سامنے ہوتا ہوا انکے پیچھے کی طرف ہو رہا تھا ۔ قدموں کی آواز بھی یقینا آرہی تھی اور آنکھو پر لگے کپڑے میں سے بھی نظر آرہا تھا میرا انکے پیچھے جانا ۔
لیکن وہ جان بوجھ کر ایسے شو کروا رہی تھیں کہ انکو نہیں پتا ۔
میں بالکل انکے پیچھے آگیا ۔ وہ دائیں بائیں ھوا میں ہاتھ ہلا رہی تھیں ۔
ابہوں نے ایک عجیب حرکت کی وہ بجائے سیدھا چلنے کے ایک قدم پیچھے ہٹا لیا ۔
اس پہلے کے انکی گانڈ مجھے لگتی میں تھوڑا سا نیچے جھکا ۔
تاکہ گانڈ اور لن کا میلاپ ہو یا کم سے کم سلام دعا کروانی بہت ضروری تھی ۔
وہی ہوا جسکا ڈر تھا ۔ کامی کی عزت ایک بار پھر لٹ گئی ۔ امی نے گانڈھ سیدھے میرے لن پہ ماری ۔ اب انکی ہپس کی لکیر میں تو نہیں گھسا البتہ سخت ٹکراو ہوا ۔
اوہو تو تم پیچھے سے وار کرنا چاہتے تھے ۔ امی نے اچانک ہسنتے ہوئے کہا ۔
میں نے بھی کہا آگے سے بھی وار کر سکتا ہوں دھیان سے رسکانہ بیگم ۔۔۔۔۔
الو ۔۔۔ امی نے بدستور ہسبتے ہوئے کہا ۔
شاید میرا بیگم کہنے پر انہوں نے ایسا کہا ۔
خیر میں اب زیادہ کچھ نہیں کرنا چاہتا تھا ۔ بس دیکھنا چاہتا تھا کہ امی کا میرے ساتھ برتاو اب کیسا ہوتا ہے ۔
کھیل وہیں ختم گھر کے اندر جاتے ہوئے امی نے کن اکھیوں سے پھر لن شریف کا دیدار کیا ۔۔. ۔۔۔۔
وہ اپنے کپڑے تبدیل کرنے چلی گئیں اور میں نے گیلی شلوار پہ ہی قمیض پہن لی اور مریو کو لینے چلا گیا ۔
Categories