-->
Home Complete Stories On-Running Famous
Urdu Stories

بہن کا شوہر قسط نمبر 6

 بولو بولو تم کیا سوچ رہے تھے ؟ کیا نہیں دینی ڈرٹی مائینڈ ؟

اور میں ہنسی جا رہا تھا ۔ سچ پوچھیں تو مجھے بھی سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا جواب دوں یا کیا پوچھوں ۔ میری سوچ سے بڑھ کر روچی میچور تھی بلکہ اس کو سارے کوڈ ورڈ یا ذو معنی جملوں کا پتا تھا ۔ ( وجہ کالجز یونیورسٹیز میں لڑکیوں کا آپس میں کھلی گپ کرنا اور انٹر نیٹ ) ۔ اس لیے آج کی لڑکی بھی ہوشیار ہے سمجھدار ہے ۔
خیر انہی چھیڑا چھاڑی میں گھر آگئے ۔ روچی نے ابو کو بتایا کہ بھائی نے بہت اچھا سکھایا ۔
میں دل میں سوچ رہا تھا کہ بھائی کو خود تم سے ٹویشن لینے کی ضرورت ہے بہنا ۔
اسکے بعد روچی نے پیکٹ سے تھوڑی سی شال باہر نکال کر امی ابو کو دکھائی اور کہا یہ بھائی نے مجھے گفٹ کی ہے ۔
امی ابو ہم دونوں بہن بھائیوں کا پیار دیکھ کر بہت خوش ہوئے ۔ اب ڈرائیونگ کیسے سکھائی اور روچی آپی کہاں بیٹھی تھی یہ نہیں بتایا ۔شاید ابو مائنڈ کر جاتے 😊 اور پھر ہلکا سا قتل بھی کر دیتے ۔
ایسے ہی کچھ دن گزر گئے ہلکی پھلکی کسنگ اور گلے ملنے سے زیادہ کچھ نہ ہوا ۔ میرے اندر لاوا ابل رہا تھا کئی بار سوچا مٹھ لگاتا ہوں لیکن پتا نہیں کیوں دل نہیں چاہا ۔ اس ٹام اینڈ جیری کھیل میں مجھے مزاہ تو آرہا تھا لیکن میں اندر ہی اندر جل رہا تھا سلگ رہا تھا ۔ روچی آپی کی قربت مجھے پاگل تو پہلے ہی بنا چکی تھی اب اس شدت میں اضآفہ ہو رہا تھا ۔ میں نے روچی سے کہا کہ وہ ریڈ برا پہن کے دکھا دو پلیز ۔ تو وہ اس بات کو مزاق میں ٹال گئی ۔ اس وجہ سے میں دلبرداشتہ تھا اور روچی آپی سے پیچھے ہٹنے لگا ۔ اکثر گھر کے باہر چلا جاتا ۔ یا ابو کے ساتھ کھیتوں میں نکل جاتا ۔ میں روچی آپی کو نظرانداز کر نے لگا ۔
اس بار موسمی بخار کا شکار ابو اور روچی آپی بنے ۔ بخار پہلے ابو کو ہوا ان کی وجہ سے شاید روچی آپی کو بھی ہو گیا ۔ روچی جب بیمار پڑی تو میں اسکو کمپنی دینے لگا ۔ کیونکہ میں بے غیرت نہیں میری بیماری میں مجھ پر واری نیاری تھی ۔ اور اب وہ بیمار ہے تو میں پیچھے ہٹ جاوں ؟
مشرقی روایات ایسی نہیں ہیں ۔ ہم بہن کے مرنے تک اسکا ساتھ نہیں چھوڑتے ۔ اس لیے میں روچی آپی کے پاس آنے جانے لگا ۔ لیکن ٹچ وغیرہ نہیں کرتا ۔ تھرمامیٹر سے بخار چیک کرتا اور کہوہ سوپ یا چائے ٹیبل پر رکھ دیتا ۔
روچی آپی کوئی بچی تو نہیں تھے ۔ جو میرے رویے میں فرق کو نہ پہچان سکے ان کو اندازہ تو ہو چکا تھا لیکن انہوں نے چھیڑ چھاڑ کی کوشش نہیں کی ۔
پھر ایک رات امی نے مجھے کہا کہ سونے سے پہلے روچی کو ایک بار میڈیسن یاد دلوا دینا ۔ اور یخنی پلانا ۔ ابھی وہ سو گئی ہے پتا نہیں کب اٹھے گی ۔
رات 9 بجے کے بعد میں کچن گیا اور یخنی کو گرم کیا ۔ ایک کپ چائے بنائی ۔ میڈیسن اور یخنی چائے لیکر روچی کے روم میں چلا گیا ۔ روچی آپی کا چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا ۔ میری آمد کا اس کو پتا چل چکا تھا میں نے اسکی یخنی اور میڈیسن ٹیبل پر رکھی اور خود بیڈ سے ہٹ کر کرسی پر بیٹھ گیا اور چائے پینے لگا ۔
کامی ۔۔۔۔۔۔۔
روچی آپی نے آواز دی ۔ اور میں ان کے بیڈ کے پاس چلا گیا ۔
جی آپی ۔میں نے جواب دیا
میرا جگر مجھ سے ناراض ہے ؟ روچی آپی کی کمزور سی آواز آئی ۔
میں ان کی طرف جھکا ہوا تھا اور وہی سے جواب دیا ۔ نہیں روچی آپی ۔ میں بھلا ناراض کیسے ہو سکتا ہوں ؟
تو پھر میرے کمبل میں کیوں نہیں آتے ؟ کیوں میری روح کو میرے جسم سے دور کیوں کیا ہوا ہے ؟
روچی آپی یہ کہتے ہوئے ساتھ تھوڑا سا اپنے اوپر لیا ہوا کمبل اٹھا دیا /
میں نے روچی آپی کے کمرے کا دروازہ اندر سے بند کر دیا ۔ ابھی پلٹنے لگا تھا کہ روچی کی پھر آواز آئی ۔
لائٹ بھی آف کر دو کامی ۔ ۔۔۔۔۔
جوان ماں باپ گھر پہ ہیں ۔ اور ہم دروازہ لاک کر کے لائٹ بھی بند کر رہے ہیں ۔
اگر کوئی آگیا تو اپنی آنکھوں سے مشرقی تہذیب کی ماں بہن ایک ہوتے دیکھے گا ۔
خیر لائٹ آف کر کے میں روچی کے بیڈ کی طرف گیا ۔ ابھی اس بیڈ پر روچی آپی کی طرف کمر کر کے بیٹھا ہی تھا اس نے میرا بازو پکڑ کر اپنی طرف کھینچا ۔
میں چپ چاپ روچی آپی کے بستر میں گھس گیا ۔ جو کہ کسی بھٹی کی طرح اندر سے تپ رہا تھا ۔
میں بالکل سیدھا لیٹا تھا ۔ روچی آپی پہلے میرے کندھے کے پاس اپنا سر کیا ۔ اور میرا بازو کھینچا جیسے میرا بازو اپنے تکیے کے طور پر استعمال کرنا چاہ رہی ہے ۔
ہم بھائی لوگ ایثار و قربانی کے پیکر ہوتے ہیں ۔ بہنوں کی خواہشوں کو نہیں ٹال سکتے ۔ بیشک برا پہن کر نہ دکھانے والی میری خواہش پوری نہیں کی لیکن بھائی کا فرض تو ہوتا ہے کہ وہ بہنوں کی خواہشات پوری کریں ۔ اس لیے حاتم طائی کو برا بھلا کہتے ہوئے اپنا ایک بازو پھیلا لیا ۔ روچی آپی میرے بازو سے ہوتی ہوئی میرے سینے سے لگ کر لیٹ گئی ۔
کچھ دیر ایسی ہی پڑے رہے اور ہلکی پھلکی بات ہوئی طبیعت کی موسم کی وغیرہ
پھر روچی میرے بازو پر سے اٹھ گئی اور مجھے کہا اپنی شرٹ اتارو ۔
ہیں ؟
میں اپنی عزت لٹنے ہوئے پوچھ بیٹھا ۔
مجھے تمھارے سینے سے لگ کر لیٹنا ہے کچھ دیر ۔ میں نے فورا شرٹ اتار دی ویسے تو مجھے دے گی یا نہیں لیکن نمونیا ضرور کروائے گی ۔
اب کمبل کی گرمی روچی آپی کا جسم بھی تپ رہا تھا اور میں بغیر شرٹ کے اسکے ساتھ لگ کر لیٹا ہوا تھا ۔ مجھ پر بھی یہ ماحول اثر کرنے لگا ۔ ویسے اوپر سے کوئی آگیا تو یہی سوچے گا ۔ واہ بہن بھائیوں میں کتنا پیار ہے ۔
روچی آپی اپنی جگہ سے اٹھی اور میرے اوپر آکر میری ہی طرف منہ کر کے لیٹ گئی ۔ یعنی میرے سینے سے لگ کر ۔
اس کو سنبھالے کے لیے میں نے اپنے دونوں ہاتھ اس کی کمر پر رکھ دئے ۔ قمیض کے اوپر ہی گندے دماغ والو ۔ بہن بھائی کے سچے پیار کو کنجر خانہ سمجھ رکھا ہے ۔۔۔۔۔۔۔
روچی نے سر اٹھا یا اور میری طرف دیکھنے لگی ۔ پھر ایک کِس میرے ننگے سینے پر کی ۔ اب کامی صاحب کا ہوش میں رہنا بیغیرتی کہلاتا ۔ میں نے اس کو اپنی طرف ہلکا سا بھینچا ۔ اپنے بازووں میں جکڑا ہوا تھا لیکن سختی سے نہیں ۔
روچی آپی مزید اوپر اٹھی اور میری ٹھوڈی پر کِس کی ۔ میں نے اس کے ماتھے پر جوابی کس کی ۔
اب میرے لن میں بھی حرکت پیدا ہونا شروع ہو چکی تھی ۔ پہلے ہمارے سر کمبل سے باہر تھے لیکن روچی نے کمبل بھی مزید کھینچ لیا اب دونوں کے چہرے بھی کمبل میں تھے ۔
میں اب ٹھنڈی گرم ہوا کمبیل کے اندر و باہر کا درجہ حرارت کا سوچ رہا تھا کہ دو ابلتے ہوئے انگارے میرے ہونٹوں کے اوپر ۔
روچی آپی کی تیز گرم سانسیں میرے لبوں کے اوپر اور دو ہونٹ بھی ۔ اس نے کِس نہیں کی بلکہ رکھ دیے ۔
میں نے ہمت کی اور روچی آپی کے ہونٹوں کو ہلکا سا کس کیا اور واپس اس کے ہونٹوں سے جوڑ کر رکھ دیے ۔
اب روچی آپی اور میری سانسیں آدھی آدھی ایک دوسرے کے منہ میں جا رہی تھیں کچھ چہرے پر ۔
میری جان ۔۔۔۔۔۔۔ ؟
روچی آپی کی کانپتی ہوئی لیکن بالکل آہستہ سی آواز آئی ۔
میں نے بس ہممممم کہا ۔۔۔
اپنی زبان نکالو۔ روچی آپی کی رویہ اور آواز مجھے کسی اور ہی دنیا میں لے گئی ۔
میں نے چپ چاپ تھوڑی سے زبان باہر نکالی روچی آپی نے پہلے اپنے ہونٹوں میں لی پھر کچھ اور کھینچ لی ۔
وہ بالکل آہستہ آہستہ میری زبان سے اپنی زبان ٹکراتی کبھی چوسنے لگی ۔
کہاں تک سناوں ظلم کی داستانیں ۔ ساتھ ہی اس نے اپنی رانوں کو میرے لن کے گرد لاک کر لیا ۔
عجیب قسم کا سرور تھا ۔ میں نے بھی روچی آپی کی کھلی قمیض کے اندر اپنے ہاتھ گھسا دیے ۔ اور کمر مسلنے لگا ۔ ہاتھ اوپر لیکر آیا تو پتا چلا شہزادی صاحبہ نے برا ہی نہیں پہنی ہوئی ۔ یہ کوئی انسانیت ہے جوان بھائی پر چڑھ کر لیٹی ہوئی وہ بھی بغیر برا کے ۔
کس کو سناتا اپنا دکھ ۔ زبان پہلے ہی اس کے قابو میں تھی اور لن دونوں رانوں میں لیکر اس کو دبا رکھا تھا ۔
میں نے زبان روچی آپی کے منہ سے کھینچی ۔ اور اس کو کہا مجھے آپ کی زبان سک suck کرنی ہے ۔
روچی آپی نے کہا پکی بات ہے ؟
میں نے نا سمجھتے ہوئے کہا ہاں پکی بٹیٹ مجھے بھی آپ کی زبان چوسنی ہے ۔
اچھا تمھاری مرضی میرے جگر کے ٹکڑے ۔ ورنہ میں تو دودھ پلانا چاہتی تھی اپنی بچے کو ۔ اتنے دن سے بھوکا ہوگا بیچارہ ۔
وڑ گئے ۔ یہ کیا بدتمیزی ہے ۔ پہلے بتانا چاہیے تھا نا ۔
(خیر میں اب بھی چاہتا تو زبردستی کچھ بھی کر سکتا تھا ۔ کس یا ممے چوسنے حتاکہ کے لن اندر کرنا بھی ۔لیکن ایسا نہیں ہوتا ۔ میری روچی آپی نے مجھ پر یقین کیا مجھے پیار کیا اور وہ ایک ایک پل انجوائے کرنا چاہتی تھی ۔ بھوک مٹانا مقصد بالکل نہیں تھا ۔ بالکل سمجھ لیں بھوک بڑھانا مقصد تھا اور ساتھ ہلکے پھلکے رومانس سے جلتی ہوئی آگ کو کسی نہ کسی حد تک کم کرنا ۔ )
میں نے کہا مجھے امید ہے میری دیوی نا ہی مجھے بھوکا سونے دے گی ۔ نا ہی پیاسا ۔
اس پھر روچی آپ کو اپنے بازووں میں رکھتے ہوئے آہستہ آہستہ اسکو اپنے نیچے لانے لگا ۔
جونہی روچی میری جگہ نیچے آئی اور میں اس کے اوپر اس نے آہستہ سے اپنی ٹانگیں کھول دیں ۔ اب میرا لن براہ راست اس کی پھدی کو ٹچ کر رہا تھا ۔ سب سے پہلے روچی آپی کی گردن پر کس کی اور پھر پورے چہرے پر ۔ اور آخر میں اس کے ہونٹوں پر ۔ یہ آج پہلا موقع تھا ۔
نا صرف روچی بلکہ کسی بھی لڑکی کو ہونٹوں پہ کس کرنے کا ۔
میں نے روچی آپی کا نیچے والا ہونٹ اپنی ہونٹوں میں لیا اور کچھ دیر چوستا رہا ۔ روچی آپی کی سانسیں تیز ہو گئیں ۔ اور وہ میرے اوپر والے ہونٹ کو چوسنے لگی ۔
پھر آہستہ نے اس نے اپنی زبان میری منہ میں ڈال دی ۔ دونوں ہاتھوں سے میرے چہرے کو پکڑ رکھا تھا ۔ لیکن میں نے ابھی کچھ ہی دیر زبان چوسی تھی تو بے اختیار ہو گئی اس نے زبان واپس کھینچ لی ۔
اور مجھے کہا ۔ کامی میری جان ۔
میں نے بھی مدہوش آواز میں ہممم کہا ۔
اپنی تھوک میرے منہ کے اندر ڈالو ۔ ۔۔۔۔
مجھے یہ پسند نہیں تھا لیکن وہ ھالات ہی ایسے تھے ۔ میں نے تھوڑی سے تھوک اس کے منہ کے اندر پھینکی ۔ اور پھر ہونٹوں پہ ہونٹ رکھ لیے ۔
روچی نے ایک ہاتھ کو آزاو کیا اور اپنے کندھے سے اپنی ڈھیلی سی شرٹ کو نیچے کھینچنے لگی ۔
پہلے اسکا کندھا ننگا ہوا پھر میرا عزیز ترین حصہ میرا دل میری جان روچی آپی کا بائیاں مما ۔
میرے منہ سے پھنکار نکل رہی تھی فورا سر نیچے کیا اور روچی آپی کے بائیں ممے پر منہ رکھ دیا ۔
نرم اور گرم ترین ۔ میرے منہ میں پورا نہیں آسکا اس سے بڑا تھا ۔ ۔
سب سے پہلے ایک ہلکی سے کس کی نپل پہ ۔ میرا منہ نپل پر اتے ہی روچی آپی کے منہ سے سسکاری نکل گئی ۔
خیال سے کامی ۔ تمھارا ہی ہے آہستہ سے چوسنا ۔ اپنی بہن کو تکلیف نہ دینا ۔
میں نے روچی آپی کی شرٹ کو مزید نیچے کیا بلکہ کچھ سلائیاں ادھڑنے کی آواز بھی آئی ۔
اور ممے کو ظالم سماج سے رہائی دلوائی ۔
جونہی آزاد ہوا میں نے زبان کی نوک نپل پر دوبارہ رکھی اور اس کو چاٹا ۔ پھر نپل چوسنے لگا ۔
جوکہ سخت ہو چکی تھی ۔ میرا سر دونوں ہاتھوں میں تھامے روچی آپی میرے سر کا دباو ممے پر ڈال رہی تھی ۔ کیا ہی مزے کا زائقہ تھا ۔ مما چوسنے سے کسی وقت آواز بھی نکل جاتی ۔ ۔۔
میں دنیا سے لاپروہ ہوکر چوستا جا رہا تھا ۔
کم سے کم 5 منٹ تو لازمی چوسا ہوگا ۔ میرا دل نہیں بھر رہا تھا ۔ میرا لن وہی ہی لوہے کے راڈ کی طرح اکڑا ہوا تھا ۔
میں نے مما چھوڑا اور روچی آپی کے اوپر ہوگیا ۔ اب میرا لن دوبارہ روچی آپی کی نرم رانوں میں تھا ۔ روچی آپی بھی سمجھ چکی تھی کہ اب مجھے کس چیز کی طلب ہے ۔
اس نے میرے لن کواپنے پھدی کے پاس رکھا اور ٹانگیں بھینچ لیں ۔ میں نے بھی لن کو ٹانگوں کے درمیان اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا ۔ روچی آپی پہلے ہی گیلی ہو چکی تھیں ۔ بس میرا لن ہی نہیں بیٹھ رہا تھا ۔۔۔
دو تین منٹ گزر گئے ۔ لیکن اب مجھے کوفت ہونے لگی میں فارغ کیوں نہیں ہو رہا ۔ روچی آپی کی شلوار نہیں اتار سکتا تھا ۔ نا ہی انہوں نے ایسا کوئی سگنل دیا تھا ۔ ویسے بھی اس حالت میں وہ اتنا بڑا لن بالکل بھی برداشت نہیں کر سکتی تھیں ۔
روچی آپی کو میری پریشانی سمجھ میں آچکی تھی ۔ انہوں نے ٹانگوں کو کھول دیا اور میرے لن کو آزاد کر دیا ۔ اور نا صرف یہ بلکہ اپنی ٹانگوں کو میری کمرے کے گرد لاک کر لیا ۔ ۔۔
اب میں ایسے ہی جھٹکے مار رہا تھا جیسے کسی کو چودتے ہیں ۔ لن آپی کی پھدی سے ٹکراتا جس میں سے لاواہ نکل رہا تھا ۔ سوچا کہ کونسا دن ہوگا جیسا ہم دونوں کے درمیان یہ شلواروں کی رکاوٹ نہیں ہوگی ۔ بس یہی سوچنا تھا کہ لن مزید اکٹر گیا اس کی رگیں پھول گئیں روچی آپی نے مزید سختی سے مجھے اپنے ساتھ لگایا اور تھوڑی سے پھدی اٹھا دی ۔ جیسے وہ بھی یہی سوچ رہی ہیں کہ لن بغیر رکاوٹ کے انکی پھدی کے اندر ہے ۔
میری سانسیں تیز ہو چکیں تھیں ۔ اسی لمحے روچی آپی نے عجیب بات کی ۔
کامی پورا اندر کر دو اپنی بہن کے ۔ میں تمھارا پورا لن اپنے اندر سمونا چاہتی ہوں ۔
میرے منہ سے آہ کی آواز نکلی اور پھر ایک آگ کا دریا اندر سے نکلا ۔۔۔۔۔
اپنی سگی بہن کے منہ سے ایسا سن کر کون نہیں پگھل سکتا ۔ میں بھی پگھل چکا تھا بلکہ اچھا خاصا پگھل چکا تھا ۔ میرا جسم تھر تھرانے لگا ۔ لگتا تھا پورا گلاس منی کا نکلا ۔ جس کی گرمائش اور گیلا پن روچی آپی نے اپنی پھدی پر محسوس کی۔ ۔ دونوں کی آنکھیں بند تھیں ۔ سانسیں تیز ۔ اور مییں روچی آپی کے اوپر ہی گرگیا ۔ اس کے ٹانگیں ابھی تک مجھے اپنے حصار میں لیے ہوئے تھیں ۔
کچھ دیر ایسے ہی پڑا رہا پھر اسکے چہرے پر کِس کی اور کہا آئی لو یو ۔۔۔۔ اینڈ تھینکیو
آئی لو یو ٹو میری جان ۔ روچی آپی نے جواب دیا ۔
اب میرے چندہ کو اپنے روم میں جانا چاہیے ۔ جاکر کپڑے تبدیل کرو ۔ اپنی شلوار میرےباتھ میں رکھ جاو ۔ میں دھو دوں گی. ۔۔ ۔
میں نے روچی آپی کے دونوں ہاتھ پکڑ کر چومے اور کہا نہیں آپ ریسٹ کریں ۔ میں دھو لوں گا ۔
روچی آپی نے کہا نہیں ابھی میڈیسن لینی ہے یخنی گرم کر کے پینی ہے ۔ پھر ریسٹ کروں گی ۔ ۔۔۔
میں طابعداری سے بولا آپ اپنے کپڑے تبدیل کریں ۔ میں اپنے روم میں جاتا ہوں ۔ میں بھی کپڑے تبدیل کر کے آپ کو یخنی گرم کر کے لا دیتا ہوں ۔ آپ پی کر سو جانا ۔
روچی آپی نے میرے ماتھے کو چوما اور خوش ہوکر کہا اچھا ایسے کر لیتے ہیں ۔
میں جاتے ہوئے لائٹ جلائی اور اچانک مڑ کر دیکھا تو روچی آپی اپنی شرٹ درست کر چکی تھی ۔میری اس حرکت پر ان کو ہنسی آگئی اور کہنے لگی بھوکے جاو اب ۔
قسمت ہی خراب ہے ۔ میرے دیکھنے سے پہلے ہی مما چھپا لیا ۔ اتنی بے اعتباری ہے مجھ پر ۔ خیر میں اپنے روم میں گیا اور پلان کے مطابق شلوار تبدیل کی ۔ اور اس پر پانی مار دیا ۔ ۔۔
اتنا مادہ دیکھ کر امی ہی پریشان نا ہو جائیں کہ پتا نہیں کس پر چڑھا رہا ۔ ۔۔۔n
روچی آپی کو پھر یخنی گرم کر کے دی ۔ میڈیسن کھلائی اور اسکو لٹا کر اپنے روم میں آکر سو گیا ۔ ۔۔