بہن کا شوہر قسط نمبر 5
اگلی صبح امی کی آواز نے اٹھا مجھے دیا ۔ امی میرا پتا کرنے آئیں تھی اور ساتھ میرا محبوب میری روچی آپی بھی تھیں ۔
صبح کے 9 بج چکے تھے ۔ امی نے بخار چیک کیا اور حکم صادر کیا کہ کل سے تم نیچے ہی سونا ۔
ایک تو سیڑھیاں چڑھ کر مجھ سے آیا نہیں جاتا ۔ دوسرا روچی بتا رہی تھی تم خواب میں اونچی اونچی باتیں کر رہے تھے آوازیں آرہی تھیں اور تیسرا ہمیں بھی آسرا ہوگا نیچے ۔
میں سمجھ گیا تھا یہ ساری فلم روچی آپی کی ڈائیرکٹ کی ہوئی ہے ۔ اسی نے یہ ساری فلم ڈالی ہے ۔ اور وہ امی کے پیچھے کھڑی اپنے دوپٹے کے پلو سے کھیل رہی تھی جیسے پرانی فلموں میں شرمیلی ہیرونز کرتی تھیں ۔ میرے روچی آپی پہ بے ساختہ پیار آرہا تھا ۔
لیکن کنٹرول اودھے کنٹرول ۔۔۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے امی ۔ میں نیچے اپنے بچپن والے کمرے میں سو جایا کروں گا ۔
اس روز میری طبیعت سنبھل چکی تھی ۔ میری بہن مجھ پر دل و جان سے واری واری تھی ۔ امی کچن میں کھانا بنانے لگیں ، میں روچی آپی اور مریو میرے روم کی سیٹنگ کرنے لگے ۔ سنگل بیڈ ہی تھا اس کے دائیں جانب سائیڈ ٹیبل اور پھر صوفہ ۔
بیڈ کے بائیں جانب بھی ایک سائیڈ ٹیبل کتابوں کا ریک اور الماری اور ساتھ اٹیچ باتھ روم
۔
سیٹنگ ختم ہونے کے بعد روچی سرسوں کے تیل والی بوتل لے آئی ۔ اور میرے دروزے کے قبضوں میں تیل دینے لگی ۔
اسکا قد مجھ سے چھوٹا ہے چنانچہ میں آگے بڑھا اور اسکو کہا میں ڈالتا ہوں ۔
مجھ سے قسم لے لیں میرے دل میں کوئی غلط خیال آیا ہو ۔ میں نے تو تیل کی ہی بات کی تھی ۔
لیکن روچی آپی ترچھی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے مجھے تیل کی بوتل پکڑا دی ۔
اور ساتھ ہی کہہ دیا ۔۔۔۔۔ تم ہی ڈالنا میری جان
اس نے " ڈالنا " پر تھوڑا زور دیا ۔
اوہ بہن چود یہ تو ذو معنی گفتگو ہو رہی ہے ۔
ویسے دروازے کو تیل دینے کی افادیت کا مجھے اس وقت پتا نہیں تھا ۔
بارحال روم سیٹنگ کے دوران روچی کئی بار مجھ سے ٹچ ہوئی ۔ اسکا کوئی خاص نوٹس نہیں لیا ۔ دوپہر تک سب سیٹنگ ہو چکی تھی اور ہم نے اکھٹے کھانا کھایا ۔
شام 4 بجے میں تھوڑی دیر کے لیے باہر نکلا ۔ تا کہ تازہ ہوا سے طبیعت کچھ کھل جائے ۔
محلے میں یہاں وہاں پھرتا پھرتا گھر آگیا ۔ مجھے اپنے آپ میں حیرت انگیز تبدیلیاں محسوس ہو رہی تھیں ۔ ہر چیز اچھی لگ رہی تھی ۔ میں بلا وجہ بھی مسکراتا رہا ۔
شام کو گھر آیا تو ابو کی وڈیو کال چل رہی تھی ۔ اور تینوں ان سے بات کر رہے تھے ۔ میرے آتے ہی امی نے مجھے بھی بلا لیا ۔ اور رسمی سلام دعا کے بعد ابو نے میری طبیعت کا پوچھا ۔
پھر تھوڑی دیر تک بڑی بہن کے بارے احکامات و نصیحتیں دیتے رہے ۔
میں نے بھی کہا کہ آپ پریشان بالکل نا ہوں میں انکا دھیان رکھتا ہوں ۔ فورا روچی بول اٹھی ۔ ابو یہ جھوٹ بول رہا ہے ۔
اس سے پوچھیں آج تک کبھی سوائے یونیورسٹی کیمپس کے کہیں اور لے کر گیا ہے ؟
ابو میری فرینڈز کے بھائی ان کو پتا نہیں اتنی شاپنگز اور سیریں کرواتے ہیں ۔ اور ایک میر ابھائی ہے ہر وقت اپنی باڈی بناتا رہتا ہے ۔
روچی کے لہجے میں شرارت اور شکوہ دونوں تھے ۔ ابو نے پھر 10 منٹ میری لی ۔ کلاس یار ۔
دوران وڈیو کال ہی میں نے وعدہ کیا اور کہا روچی آپی جب جہاں کہے گی میں گھمانے لے جاوں گا ۔ کچھ دیر بعد کال بند ہو گئی
روچی آپی نے اس وقت پنک کلر کا سوٹ پہن رکھا تھا ۔ جس میں سے اسکی کالی برا کی سٹرپس جھلک رہی تھیں ۔ میں نظروں میں ہی اس کے جسم کا ایکسرے کر رہا تھا ۔
ایسے ہی شغل میلے میں رات ہو گئی ۔ ۔۔۔
سردیوں میں رات 10 بجے ایک قسم کی آدھی رات ہوتی ہے ۔ امی اپنے روم میں ، روچی اپنے روم میں اور میں اپنے ۔
دس بجے بعد مجھے روچی کا میسج آیا ۔ میری جان کیا کر رہا ہے ؟
دل تھا کہہ دوں کہ ایک ہاتھ سے لن کو مسل رہا ہوں اور دوسرے ہاتھ سے میسج ۔
لیکن میں نے جواب دیا ۔۔۔۔۔۔۔۔اپنی دیوی کے بارے میں سوچ رہا ہوں ۔
روچی : کیا ؟
میں : کہ دیوی کا درشن کب ہوگا ؟
روچی : نہیں صبر ہو رہا ؟
میں : بات صبر کی نہیں جانی ۔۔۔۔
روچی : تو پھر ؟
میں : ویسے ہی تم پاس نا ہو ، نگاہوں کے سامنے نا ہو تو ہر رنگ پھیکا لگتا ہے ۔ رونق ختم ہو جاتی ہے ۔
روچی : لیکن یاد ہے نا حد ؟ نو سیکس
میں : میری جان جو حکم ۔
روچی : ڈور کو لاک تو نہیں لگا ہوا ؟
میں : ( خوش ہوتے ہوئے ) نہیں
روچی : آتی ہوں اپنے بھائی کے پاس
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ویسے سچ تو یہ ہے کہ مجھے روچی کا بھائی کہنا اور مجھے ااسکو بہن کہنا ناگوار گزرتا تھا ۔ لیکن پتا نہیں کیوں مجھے اب اپنائیت سی ہو گئی ہے اس رشتے سے ۔ دل چاہتا ہے وہ مجھے بھائی ہی کہے اور میں اس کو اپنی بہن ۔
خیر تقریبا 30 منٹ بعد دروزہ ہلکا سا کھلا بغیر آواز کے
یہ تھی آفادیت تیل دینے کی ۔۔۔۔۔۔۔
روچی میرے پاس میرے بیڈ پر آگئی ۔ اور میں بھی ٹیک لگا کر بیٹھ گیا ۔
مجھے سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا کہوں کہاں سے بات سٹارٹ کروں ۔ روچی نے پھر پہل کی اور کہا ۔ دیوانے بھائی کو کیا ہو گیا جو اپنی دیوی کا اتنا طلبگار ہے ؟
میں روچی آپی کے نزدیک ہو گیا اسکے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیکر چوما ۔ اور بغیر جواب دیے اس کو بیٹھے بیٹھے گلے لگا لیا ۔
وہ کچھ بولنا چاہتی تھی میں نے اوہوں کہہ کر چپ کروا دیا ۔ اور کافی دیر اسکے گلے لگا رہا ۔
اس کے جسم سے اٹھنے والی مہک سے لیکر اسکی سانسوں اور دل کو دھڑکن کو اپنے سینے پر محسوس کر رہا تھا ۔
یہ میری لائف کے یادگار ترین لمحوں میں سے ایک تھا ۔ کیونکہ اسی سختی سے روچی نے بھی مجھے اپنے سینے سے لگا رکھا تھا ۔
کمرے میں کچھ کچھ روشنی تھی ۔ میں روچی کی بند آنکھیں دیکھ رہا تھا ۔ وہ سکون میں تھی ۔
مجھے اپنی طرف دیکھتے ہوئے اس نے بھی آنکھیں کھول دیں ۔
میں اپنے ہی بیڈ پر پیچھے کو کھسکا ۔ تاکہ روچی کو اپنے ساتھ لٹا سکوں ۔
روچی بھی سمجھ گئی اور بغیر کسی روک ٹوک کے میری سگی بہن ، میری بانہوں میں اور میرے ہی بیڈ پر میرے ساتھ لیٹ گئی ۔
میں نے ایک بازو روچی آپی کے سر کے نیچے رکھا ہوا تھا اور دوسرا بازو روچی کے بازو کے اوپر ۔ میں اور وہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے لیٹ چکے تھے ۔
میرے سینے میں 36 سائز کے گول مٹول ممے لگ رہے تھے ۔ بلکہ پھٹ رہے تھے ۔ اور نیچے باوا جی بھی اسی صورتحال کا انتظار کر رہے تھے ۔ اس لیے فورا ڈنڈے کی طرح کھڑے ہو گئے ۔
سچ کہوں تو اس سے اگے بڑھنے کی خواہش تو بہت تھی لیکن ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔ ایک تو ڈر تھا کہیں میرے لن کو محسوس کر کے روچی ناراض نا ہو جائے اور دوسرا کہیں روچی مجھے آزما نا رہی ہو ۔ اسلیے اپنے لن کو روچی سے تھوڑا دور ہی رکھا ۔ تاکہ اس کو ٹچ نا ہو ۔
روچی : کامی ؟؟؟
میں : مممم
روچی : کیا سوچ رہے ہو ؟
میں : کیا میں وقت کو یہیں روک سکتا ہوں ؟
( ڈائیلاگ تو میرے لن پہ لکھے رہتے ہیں )
روچی : اتنی دور سے وقت کو روک کر کیا کرو گے ؟
او تیری ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یعنی روچی کہہ رہی ہے کہ مزید قریب کرو ؟
بہن ہو تو ایسی ۔
میں نےاس کو مزید اپنے قری
میں نےاس کو مزید اپنے قریب کر لیا ۔ اب میرا لن سیدھا اسکے پیٹ میں لگ رہا تھا ۔
ہائے گندےےےےےےے
روچی نے ہنستے ہوئے کہا ۔
یہ کہتے ہی روچی تھوڑا اوپر کی طرف ہوئی ۔ میرا سر اس کے سینے تک آگیا ۔
اور میرا سخت لن اس کے دونوں رانوں کے بیچ میں ۔
توبہ لوہے کا پائپ ہے تو ۔ روچی نے کہا
میرے لیے اب بولنے کی کوئی گنجائش نہیں تھی ۔ کیوںمیرا منہ اس کے مموں کو ٹچ کر رہا تھا ۔
آتے ہوئے برا اتار آئی تھی ۔ سیانی بہن
ایسی ہوتی ہیں بہنیں ۔ جو بھائیوں کا خیال رکھتی ہیں ۔ شاباش
اب یہ تو طے ہے کہ روچی کو مزاہ نہ آرہا ہو ۔ ایسا ممکن نہیں ۔ کیونکہ وہ اپنے مموں کو مزید میرے منہ کی طرف دھکیل رہی تھی اور ساتھ ہی اسکی رانیں بھی سختی سےبند ہو رہی تھیں ۔ ۔ جن میں میرا چھوٹا سا ننھا منا لن تھا ۔
میرا دماغ اس وقت سائیں سائیں کر رہا تھا ۔ دل چاہ رہا تھا اسی وقت روچی کو اپنی نیچے کروں اور اس کے اوپر لیٹ جاوں ۔
لیکن میں برداشت کرتا رہا ۔
روچی نے پوچھا ۔۔۔۔۔اب ٹھیک ہے میرے بچے ؟اور ساتھ ہی میرے ماتھے پر کس کر دی ۔
آنکھ کے بدلے آنکھ ۔ کان کے بدلے کان اور کس کے بدلے کس
اس کے مموں پر کس کر کے بدلہ لے لیا ۔۔۔ ہاں اب سکون ہے
روچی اور میں ایسے ہی لیٹے رہے ۔ ابھی 5 منٹ ہی گزر ے تھے کہ امی کے کمرے سے مریو کے رونے کی آواز آئی ۔
روچی آپی فورا مجھ سے دور ہٹی ۔ اور ہنستی ہوئی ہاتھ کے اشارے سے بائے کہتی ہوئی میرے روم سے نکل گئی ۔
روچی آپی اب میرے ساتھ کھل چکی تھی ۔ امی کے آگے پیچھے ہونے کی دیر ہوتی ۔ ہم پیار کرتے کبھی کس اور ایک دوسرے کو چپک جاتے ۔ یہ آگ کا کھیل تھا
اسی طرح اتوار کے دن روچی نے صبح 8 بجے کپڑے دھونے والی مشین لگا لی ۔ خود ٹائٹ سا ٹراوزر پہن لیا ۔ ایک تو بھرا بھرا جسم اوپر سے ٹائٹ کپڑے اور پھر مزید ظلم وہ بھی گیلے ۔
شرٹ جان بوجھ کر اس نے کھلی پہنی تھی ۔ کچھ دیر تو دیکھتا رہا لیکن سچ یہ ہے کہ میری ہمت جواب دے رہی تھی ۔ روچی آپ نے مجھے کہا ۔ کامی یہ پینٹ اتارو اور شلوار پہنو ۔ اس کو بھی دھو دیتی ہوں ۔امی کو آج بازار جانا تھا اس لیے وہ اور احسان کی امی وغیرہ بازار چلے گئے ۔
میں اپنے روم میں گیا اور شلوار اوپر ٹی شرٹ پہن لی اور روچی کو پینٹ دنے گیا تو مشین کے پاس ہی رہا نہیں گیا اور ہم ایک دوسرے کے بانہوں میں آگئے۔
آنکھیں بند کر کے دونوں کافی دیر ایسے ہی کھڑے رہے ۔ میرے دل کی دھڑکن تیز ہو رہی تھی ۔ مجھے ہر حال میں روچی آپی چاہیں تھیں ۔ میں نے انکی گیلی گردن اور چہرے پر کئی بار بوسہ لیا ۔
روچی نے میری دونوں آنکھوں پر بوسہ دیکر کر کہا ۔ ایزی میرے بھوکے شیر ۔
کچن میں ناشتہ کرو میں کپڑے دھو لیتی ہیں ۔
میں کچن میں گیا اور ناشتہ کرنے لگا ۔ ناشتا ختم کر کے میں چائے پی رہا تھا کہ روچی کی آواز آئی ۔
دلبر جانی میرے کامی ۔۔۔۔۔۔۔۔
میں نے کچن سے ہی جواب دیا ۔ جی میری دیوی ۔
یہاں آو شاید مشین کا سوئچ خراب ہو گیا ہے ۔ اب جب میں گیلری میں گیا تو میرے ہوش ہی اڑ گئے ۔ ٹھیک مشین کے کچھ اوپر سوئچ لگا ہے ۔ اور روچی آپی اس سوئچ میں لگی تار کو ہلا رہی تھی ۔
لیکن میرا دھیان ان کی گانڈ پر تھا ۔ انہوں نے قیمض کا پچھلا پلو اٹھا کر ایک ہاتھ میں پکڑا ہوا تھا اور دوسرا ہاتھ ان کا مشین کی تار اور سوئچ پر تھا ۔ گانڈ اٹھی ہوئی تھی ۔ ٹراوزر پر پانی لگنے سے ایسا لگتا تھا وہ بالکل ننگی ہیں ۔
فحاشی کی حد تھی ۔ مجھے اواز آرہی تھی جیسے کہ آجاو چڑھ جاو اپنی بہن کی گانڈ پر ۔
اسی لمحے روچی نے مڑ کر مجھے دیکھا اور پھر کہا ۔ ادھر آو نا یا تار صحیح لگ نہیں رہی ۔
میں روچی آپی کے بالکل پیچھے چلا گیا اتنا کہ ہم دونوں اپس میں جڑ گئے ۔ میرا لن جو پہلے ہی کھڑا ہو چکا تھا روچی کی گانڈ کے تھوڑا سا اوپر ٹچ ہو رہا تھا ۔ ظاہر ہے روچی نے بھی محسوس کر لیا ۔ اسلیے وہ پاوں کے پنجوں پر کھڑی ہوگئی یعنی مزید اونچا ہوئی اور میرا لن اس کی بھری بھری گانڈ کے دونوں پاٹوں کے درمیان میں ۔ ایک عجیب سا کرنٹ عجیب سا نشہ پورے جسم میں دوڑ گیا ۔
جونہی میرا لن روچی کے دونوں ہپس کے درمیان میں آیا ۔ انہوں نے آہستہ سے خود کو ڈھیلا چھوڑ دیا ۔ اور دوبارہ پنجوں سے پورے پاوں پر وزن ڈال دیا ۔ ان کو دونوں ٹانگیں بند ہو چکی تھیں اور میرا لن اس وقت پورے جوبن پر ان کی گانڈ میں تھا ۔
میرا ایک ہاتھ روچی کے ہاتھ پر تھا جس سے وہ مشین کی تار پکڑ کر سوئچ میں لگا رہی ہے ۔اور میرا دوسرا ہاتھ روچی کے پیٹ پر تھا ۔
روچی کے ہپس یا گانڈ کی گرمی سے میرا لن مزید سخت ہو گیا ۔ میرے لن آر پار ہو رہا تھا اور لن کی ٹوپی روچی کی پھدی کو ٹچ کر ررہی تھی ۔ عجیب احساس تھا ۔ اب جو چیز میں نے پہلی بار نوٹ کی کہ روچی کی گانڈ اور پھدی جیسے میرے لن کو جکڑ چکے ہیں ۔ جیسے میرے لن کو لاک کر لیا ہے ۔
یہ بہے ہی خطرناک عمل تھا ۔ ہم دونوں کی آنکھیں بھی بند ہو رہی تھین اور مزے کی انتہا پر تھے ۔
روچی آپی نے مدہوشی سے کہا تھوڑا اور اگے آو اور اسکی نگاہیں اسی تار و سوئچ پر تھیں ۔ ظاہر ہے وہ اس کی بات نہیں کر رہی تھیں ۔
میں اپنے فری والے ہاتھ کو آہستہ سے گھماتا ہوتا ہوا اس کے مموں پر لے آیا ۔
جونہی ہاتھ مموں کو چھوا روچی کی سسکنے کی آواز آئی ۔ ہم دونوں کہ سانسیں تیز چل رہیں تھی ۔
روچی نے میرے لن کو تھوڑا سا ڈھیلا چھوڑا ۔ شاہد وہ آگے پیچھے کرنے کا اشارہ تھا ۔
میں نے بھی لن تھوڑا سا واپس کھینچا ۔ اس کی گانڈ کسی چولہے کی طرح گرم بلکہ آگ کی طرح جل رہی تھی ۔ اگر میں نے اپنی جان شان نہ بنائی ہوتی تو کب کا فارخ ہو چکا ہوتا ۔
تھوڑا پیچھے کرنے کے بعد لن کو آہستہ سے پر جلتی بھٹی میں جھونک دیا ۔
یہ دنیا کی لزیز ترین پوزیشن تھی ۔ دو تین بار ایسا کرنے سے روچی شاید فارغ ہونے والی تھی ۔ اس لیے اس نے گانڈ کو مزید میرے ساتھ چپکا دیا اب وہ باقائد مشین کے اوپر ہی اوندھی ہو گئی ۔ اس کے دونوں پاوں اپس میں جڑ تو پہلے چکے تھے اب اس نے کیچی مار لی ۔ یعنی بائیاں پاوں دائیں جانب اور دائیاں پاو بائیں جانب ۔ میرے لوہے جیسے سخت لن پر روچی کی گانڈ اور پھدی زیادہ دیر نہ نکال سکی اور مجھے اپنے لن کے سرے یعنی ٹوپی پر پانی پانی محسوس ہونے لگ گیا ۔
میں بھی اب تھوڑے سے زور کے جھٹکے مارنے لگا ۔ لیکن میری بدقسمتی کہ اسی وقت ڈور بیل بجی ۔ ہم دونوں چونک پڑے ۔۔۔۔۔۔
روچی نے ٹانگوں کا لاک کھول دیا اور سیدھی ہوگئی ۔ مسکراتے ہوئے کہنے لگی جاو باہر دیکھو کون ہے ۔
میں بادنخواستہ باہر کو چل پڑا ۔ بین چود جو بھی تھا ، غلط ٹائم پہ آیا ۔
میں نے باہر لان میں نکلتے ہیں لن کو اڈجسٹ کیا اور گیٹ کھولا ۔ سامنے کوئی مسافر تھا اور کسی گھر کا پتہ پوچھ رہا تھا ۔ مجھے وٹ بڑھا چڑھا لیکن کیا کر سکتا تھا ۔
اس کو پتہ بتا کر گھر آیا تو روچی اپنا ٹراوزر تبدیل کر چکی تھی ۔ اب اس نے بھی میری طرح کوئی کھلی سی شلوار پہن لی ۔
ساتھ ہی دبی دبی مسکراہٹ سے کہنے لگی ۔لڑکے کب سے ایک کام کہا ہے تار تم سے لگی نہیں اور الٹی سائیڈ پر دھیان رہتا تمھارا ۔ اور پھر دھوئے ہوئے کپڑے اٹھا کر چھت پر چلی گئی ۔
تاکہ دھوپ میں کپڑے ڈال سکے ۔
یہ کیا بہن یکی ہے ۔ میں فارغ ہوا نہیں ۔ اور اگلی مزے اٹھا کر چھت پر چلی گئی ۔ یہ دنیا ایسے ہی فائدہ اٹھاتی ہے ۔ مجھ جیسے سادہ لوگوں کو مر ہی جانا چاہیے ۔
چلیں مرنے کا پروگرام کینسل اگر میں مر گیا تو روچی آپی کی کون لے گا ؟ اس لیے جینا تو پڑے گا ۔
وہ ہفتہ پورا میں روچی آپی کے ساتھ سایے کی طرح رہا ۔ لیکن بس کچھ خاص نا ہو سکا ۔ اس سے اگلے ہفتے ابو بھی تشریف لے آئے ۔ گھر میں رونق آگئی ۔ اب روچی تو میرے روم میں بالکل بھی نہیں آسکتی تھی ۔ مجھے اس کی سخت محسوس ہو رہی تھی ۔
میری حالت کسی رانجھے سے کم نہیں تھی ۔ ہیر کی بیوافائی کے بعد رانجھا بھی گولڈ لیف پر لگ گیا تھا اور میں بھی ۔ لیکن چھپ چھپا کر ۔
کہتے ہیں مظلوم شخص کی دعا بڑی جلدی قبول ہوتی ہے میں بھی مظلوم تھا جو اپنی بہن کے ظلم کا شکار تھا میری بھی دعا قبول ہو گئی ۔ لیکن اسکا مجھے بعد میں پتا چلا ۔
ہوا یہ کہ میں ابو اور روچی آپی بازار گئے ۔ ابو اور میں فرنٹ پر بیٹھے تھے ۔ وہ یو کے میں گاڑی چلاتے ہیں اور پاکستان آکر بھی شوق فرماتے ہیں ۔ دوران سفر ابو نے اچانک پوچھا عروسہ بیٹا تم بھی گاڑی چلا سکتی ہے ؟
تو روچی نے منہ سا بنا کر کہا نہیں ابو یہ باڈی بلڈر مجھے ہاتھ بھی نہیں لگانے دیتا ۔ میں نے غصے سے بیک مرر میں دیکھا آج تک مجھے کہا نہیں ۔ میں کیسے سکھاتا ؟ یہ کہنے ہی والا تھا تو فورا روچی بول پڑی ابو اس کو آپ کہیں ناں ۔
مجھے ڈرائیونگ سکھا دے ۔
ابو نے بھی تائید کی اور فائنل ہوا کہ میں روچی کو گاڑی ڈرائیو کرنا سکھاوں گا ۔
بس کچھ ہی دن بعد جب ابو و امی گھر پہ تھے ۔ تو روچی نے ان کے سامنے کہا باڈی بلڈر گاڑی نکالو مجھے سکھاو یہ کیسے چلتی ہے ۔
تب سردیاں اپنی جوبن پر تھیں اور دھند بھی اندھا دھند پڑ رہی تھی ۔ مجھے تو روچی کے پروگرام کا نہیں پتا تھا ۔ اور اس خطرے کا اظہار کر دیا کہ باہر دھند ہے ۔
روچی میرے پاس ہی کھڑی تھی دانت پیس کر ہلکا سا کہا ۔ بدھو ۔
پھر اونچی اواز میں کہا بھائی یہ تو اور اچھا ہے ۔ کوئی دیکھے گا بھی نہیں نا ہی زیادہ رش ہوگا گراونڈ وغیرہ میں ۔
تب میرے زہن میں روچی آپی کی ساری سکیم آگئی ۔ کیا زہن پایا ہے ۔ واہ واہ
زہین بھائی کی زہین بہن ۔
خیر میں نے کار نکالی اور روچی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تھی ۔ اب کسی سنسان گراونڈ کی تلاش میں تھا ۔
دھند تو واقعی تھی اور سنسان علاقے میں تو بالکل لوگوں کی آمدورفت نہیں تھی ۔
جونہی ایک گراونڈ ملا میں اور روچی اپنی اپنی سیٹ پر بیٹھ کر ایک دوسرے کے گلے ملے ۔ پورا رستہ میری بے عزتی کرتی آئی تھی کہ چھوٹی سے بات میری سمجھ میں نہیںآ تی ۔ ہر بات سمجھانی پڑتی ہے ۔
میں نے تھوڑا بہت کار کا تعارف کروایا گئیر کلچ بریک و ریس کا بتایا ۔ پھر پیٹرن بتایا کہ کونسی چیز پہلے کونسی بعد میں ۔
اب روچی آپی ڈرائیونگ سیٹ پر اور میں اس کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ اس نے گاڑی سٹارٹ کی پھر کبھی ریس پہلے تو کبھی بریک دبا کر رکھتی ۔
لیکن 5 سات ٹرائیوں کے بعد وہ گاڑی کو تھوڑا سا چلانے میں کامیاب رہی ۔
میرا دھیان اس کی ڈرائیونگ پر کم اس کے جسم پر زیادہ تھا ۔ صرف چند انچ کی دوری سے ممے تاڑنا اور اس کو بحانے بحانے سے چھیڑنا ۔ اس کا الگ ہی نشہ تھا ۔
میں نے اس وقت فُل لیکن لوز سا ٹراوزر پہن رکھا تھا لن کو رنگ لگ گیا اور وہ کھڑا بھی ہو گیا ۔ اور اُدھر روچی ابھی ڈرائیونگ میں پھنسی ہوئی تھی ۔
روچی گاڑی آہستہ آہستہ چلاتی ہوئی گراونڈ کے ایک کنارے پر لے آئی ۔ اب یہاں سے واپس ہی موڑنا تھا ۔ جو کہ روچی کے لیے مشکل تھا ۔ اس نے بریک مار کر میری طرف دیکھا پھر میرے لن ہوری کی طرف ۔
اس کے چہرے پر ہلکی سے مسکراہٹ تھی ۔
کامی جانی ۔۔۔۔۔۔ ایسے مجھے سمجھ نہیں آرہی ۔ تم گاڑی چلاو میں تمھاری گود میں بیٹھ کر سیکھتی ہوں ۔ ٹھیک ہے ؟
میری تو سیٹی گم ہو گئی ۔ کتے کی طرح بھاگتا ہوا رال ٹپکاتا ہوا دروازہ کھولا اور دوسری سائیڈ پر ڈرائیونگ سیٹ پر آگیا ۔
روچی تھوڑا کو اوپر اٹھی اور سٹیرنگ سے چپک گئی ۔ میں اس کے نیچے سیٹ پر بیٹھ گیا ۔ اور اس کو کہا لینڈ کروا دو میری دیوی ۔۔۔۔۔
روچی نے آرام سے آہستہ سے میری گود میں اپنی ہپس کو لینڈ کروا دیا ۔
مجھے اب بہت غصہ آرہا تھا کہ میں نے ٹراوزر کیوں پہنا ہے. میرے سینے سے اسکی کمر لگی ہوئی تھی اور میری گود میں وہ بیٹھ گئی ۔ اس کے جسم کی مسہورکن خوشبو مجھے گرم کر رہی تھی ۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھ روچی آپی کی کمر پر رکھ دیے ۔سچ پوچھیں تو مجھ سے برداشت نہیں ہو پا رہا تھا ۔ میں جنم جنم کا پیسا تھا میں نے روچی آپی کو زور سےکیا ۔
اس نے اونہو کہا اور چہرہ سامنے کی طرف ہی تھی ۔ جیسے مجھے روکنا چاہ رہی ہے ۔
میں نے ہوش پکڑا ۔ کسی بزرگ نے کیا فرمایا ہے ۔
کنٹرول اودھے کنٹرول ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بس کنٹرول کر کے ہی بیٹھ گیا ۔
اب گاڑی دوبارہ سٹارٹ کی ۔ میں نے اپنے ہاتھ روچی کی کمر سے اٹھا کر سٹیرنگ پر ان کے ہاتھوں کے اوپر رکھ دیے اور ہلکی سے کِس اس کے کندھوں پر کی ۔ اب روچی بھی ریلیکس ہوکر بیٹھ گئی اس کی ٹانگیں تھوڑی مزید کھل گئیں ۔
اسی حالت میں ہم نے تھوڑی سے کار ڈارئیونگ کی ۔ میں تو ایسی ہی تھا جیسے دیسی شراب کے نشے میں ہوں ۔ وہ جیسا جیسا کہتی میں ہوں ہوں کرتا جا رہا تھا ۔
پھر گراونڈ میں بے وقت کے کرکٹ پلئیر آنا شروع ہو گئے ۔ بے شرم کہیں کے ۔ پڑھائی پر دھیان نہیں دیتے ہر وقت کھیل کھیل ۔ پتا نہیں کیا بنے گا پاکستان کے مستقبل کا ۔
روچی آپی ایسی ہی میری گود سے دوسری فرنٹ سیٹ پر کھسک گئی ۔ اس کے بعد میں اور روچی بازار گئے ۔ اور روچی ایسے شو کروا رہی تھی جیسے ہم بہن بھائی نہیں بلکہ دیوانے اور لوور ہیں ۔
اب اس کے انڈر گارمنٹس کی شاپنگ نہ کروانا زیادتی ہوگی ۔ میں دل اس پر واری نیاری تھا ۔ پوری دنیا کی خوشیاں اس کے سامنے ڈھیر کر دوں۔
اس کام کے لیے میں نے گاڑی ایک طرف کھڑی کی ۔ اور پیدل دونوں گھومنے لگے ۔ ایسے ہی ایک بہترین اور بڑی سی لیڈیز انڈر گارمنٹس کی شاپ کے سامنے کھڑے تھے ۔ روچی نے ایک نظر شاپ پر ڈالی اور دوسری مجھ پر ۔
بدھو ۔
اور ہنستے ہوئے میرا ہاتھ پکڑا اور وہاں سے نکلنے لگی ۔ میں بھی ٹوٹے دل کے ساتھ اس کے پیچھے پیچھے تھا ۔ پانچ سات شاپس چھوڑ کر وہ مجھے ایک شاپ میں لے گئی ۔ جو باہر سے اتنی بڑی نہیں تھی لیکن اندر سے بہت بڑی تھی ۔
اندر آتے ہی روچی آپی نے کہا ۔
جان جی کیا خرویدوں ؟
آآآآآپی کہتے کہتے رک گیا ۔۔۔۔۔۔
آپ جو مرضی لے لیں ۔ میں پے کروں گا ۔ میں نے اٹکتے ہوئے کہا ۔
اندر کچھ کسٹمر بھی تھے میں سب کو دیکھ رہا تھا سالا کوئی اپنا رشتے دار یا جاننے والا نا ہو ۔
روچی برا سیکشن کی طرف گئی ۔ اور دو چار براء دیکھنے کے بعد ایک ریڈ کلر کی براء پسند کی ۔ جو مجھے بھی پسند تھی ۔ خود پہننے کے لیے نہیں بلکہ روچی آپی کے لیے ۔ ہر بات سمجھانا پڑتی ہے ۔
روچی میرے قرین آئی اور کہنے لگی میں برا وہی استعمال کرتی ہوں جو کپڑے کے اوپر سے نظر نہ آئے ۔ زیادہ تر میرے پاس سکن کلر کی ہیں ۔ لیکن اب میری جان میری ساتھ ہے اس لیے اس کی خواہش پر لے رہی ہوں ۔
بھائی لوگو سچ پوچھو تو مجھے روچی اپنی بیوی کے روپ میں نظر آرہی تھی ۔ وہ بھی محبت والی شادی ۔
عجیب سا نشہ تھا اس کے ساتھ رہنے میں ۔ وہ مجھ پر ہر پل محبتیں نچھاور کرتی جا رہی تھی ۔
اور میں ؟
لن ہاتھ میں لیے اس کے پیچھے پیچھے گھوم رہا تھا ۔ بہت ہی کمینہ ہوں نا میں ؟ دعا کرو مر جاوں ۔
خیر روچی نے براء کی شاپنگ چھپانے کے لیے ایک بڑی سی گرم شال لی ۔ اور اس میں برا رکھ دی ۔ اور پھر ایک ہوٹل میں کافی پی ۔
اور گھر کو چل دیے ۔ راستے میں پتا نہیں کیا ہو میں نے روچی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو کہا روچی ؟
روچی نے جواب دینے کے بجائے مجھے دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو کہو کیا کہنا ہے
آئی لو یو ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روچی آپی کے چہرے پر مسکراہٹ آئی پھر سیریس ہو گئی اور کہا ۔ ۔۔۔۔۔۔
نہیں میں نے ابھی نہیں دینی ۔۔۔۔۔۔۔
واہٹ ۔۔۔ میرا منہ کھلا رہ گیا ۔ ۔۔۔۔
روچی آپی : کِس نا ؟؟
میں نے لمبا سا اوہہہہ کہ کر ہنسنے لگا ۔۔۔۔۔
روچی اب باقائدہ مجھے چھیڑنے لگی.
Categories