-->
Home Complete Stories On-Running Famous
Urdu Stories

بہن کا شوہر قسط نمبر 4

 روچی نے چائے سائیڈ ٹیبل پر رکھی اور میرے ننگے سینے پر اپنے نازک سے ہاتھ رکھ دیے ۔ میری چھاتی جم کی وجہ سے سخت تھی اور بہترین بناوٹ تھی ۔۔۔۔

روچی نے عجیب حرکت کی ۔ میرے پورے سینے پر آہستہ سے ہاتھ پھیرتی پھیرتی ہاتھ اٹھا لیے ۔ پھر عین میری گردن کے نیچے سے جہاں سے میرا سینہ شروع ہوتا ہے دائیں ہاتھ کی شہادت والی انگلی میرے سینے کی درمیان والے لیکر پر پھیرتی ہوئی نیچے پیٹ تک لے گئی ۔۔۔۔۔
میرے اور اسکے درمیاں آدھے فٹ کا فاصلہ تھا ۔ میری نظر ہمیشہ کی طرح دودھ کی طرح سفید مموں اور پر جا پہنچی ۔۔۔۔
موٹے موٹے ممے میری آنکھوں کے سامنے تھے ۔ لن نے سر نکالا ۔ اور دل چاہا دونوں ہاتھوں سے قدرت کے شہکار مموں کو چھو لوں ۔
او بہن چود پھر پکڑا گیا ۔ جونہی روچی کو دیکھا وہ میری آنکھوں میں دیکھ رہی تھی ۔
لیکن لیکن
شکر ہے چہرے پر غصہ نہیں تھا ۔ بلکہ ہلکی سی سمائل ہے ۔
کامی ۔۔۔۔ ایک بات کہوں ؟
روچی کی نشیلی آواز مجھے ہوش میں لے آئی ۔
جی جی ۔۔۔۔ میں نے چوری پکڑنے جانے پر شرمندہ ہوتے ہے تیزی سے کہا ۔
روچی ویسے ہی میرے سینے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہنے لگی ۔ جیسی محبت تم مجھ سے کرتے ہو ۔ ایسی محبت میں بھی تم سے کرتی ہوں ۔
میں حیرت زدہ تھا ۔۔۔۔۔ بالکل مجھے سمجھ نہیں ارہی تھی ۔
ایک ہی رات میں ایسا کیا ہوگیا ؟
میں نے نیم مدھوشی کی حالت میں پوچھا ۔۔۔مطلب ؟؟
روچی نے ہنستے ہوئے جواب دیا بعد میں بتاوں گی اور میرے بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی ۔
پھر اچانک اٹھی اور مجھے اٹھا کر چائے دی ۔ چائے پی کر وہ باہر چلی گئی ۔
میں پہلے سے بہتر محسوس کر رہا تھا ۔ ڈور بیل بجی امی شاید دروازہ کھولنے گئیں ۔ کچھ دیر بعد احسان اور آشی اور انکی امی آگئے ۔
میں فورا اٹھا اور شرٹ تلاش کرنے لگا ۔ اس دوران آشی مسلسل میرے مسلز اور جسم کو ہی گھور رہی تھی ۔ مجھے بڑا عجیب لگا ۔
انکو بھی خبر ہو چکی تھی میں بیمار ہوں ۔ احسان کرید کرید کر پوچھنے لگا کہ کل کہاں تھا ۔ میں نے بھی کھیتوں کا کہہ کر موضوع تبدیل کر دیا ۔ کچھ احسان اور اسکی امی سے باتیں کرتا رہا اس کی امی اور باجی کھڑے کھڑے ہی نیچے چلے گئے ۔
کچھ دیر بعد روچی نے احسان کو آواز دی ۔ احسان چائے پی لو ۔ آیا آپی ۔۔۔۔ یہ کہتے ہوئے وہ نیچے گیا اور پھر دو چائے کے کپ اٹھا کر اوپر میرے پاس آگیا ۔
شارٹ کٹ یہ کہ گھنٹہ ایک بیٹھنے کے بعد وہ چلے گئے پھر امی آگئیں ۔ میرا بخار و مجھے دیکھ پوچھ کر کہنے لگیں ابھی پھر میڈیسن لے لو ۔ ابھی ٹھیک نہیں ہوئے تم ۔ برتن اٹھا کر نیچے چلی گئیں ۔
میں روچی کے رویے کے بارے میں سوچ رہا تھا ۔ اسکے رویے میں 180 ڈگری تبدیلی ۔ اور کیا بات کرنی ہے مجھ سے ؟
کچھ دیر بعد پھر امی آئیں پانی کا گلاس اور پیناڈول کی گولی میری سائیڈ ٹیبل پر رکھ دی ۔ اور تاکید کی کہ کچھ دیر بعد لینا ابھی تم نے چائے پی رکھی ہے ۔
دس منٹ بعد میں نے گولی لی اور پانی پی ہی رہا تھا روچی آگئی ۔
اس کو دیکھتے ہی میرے منہ سے پانی کا فوارہ چھوٹنے والا تھا جو میں نے بامشکل روکا ۔۔۔
بہن چود یہ گھر ہے میرا کوئی فحاشی کا اڈہ نہیں ۔
وہی ہاف وائٹ سوٹ لیکن اوپر کا بٹن کھلا ہوا ۔ جس سے اسکے مموں کی ایک دو انچ کی درمیانی لکیر نظر آرہی تھی ۔ ہاتھ میں جھاڑو لیے آدھمکی ۔۔۔
میرے ہاتھ سے گلاس لینے آگے آئی تو میری نظر حسب معمول گورے چٹے بڑے بڑے مموں پہ تھی ۔
اس نے اب برا بھی نہیں پہنی ۔
مجھے مصروف دیکھ کر اونچی آواز میں کہا صفائی ٹائم ۔۔۔۔۔
میں چونک گیا ۔
کل سے لن میرا آدھا کھڑا آدھا بیٹھا ۔ یہ چل کیا رہا ہے ۔
روچی کا منہ اب میرے کمرے میں رکھی الماری کی طرف تھا اور میری طرف پیٹھ ۔
اس نے پیچھے گانڈ سے قمیض اٹھائی اور جھک کر جھاڑو دینے لگی ۔
اب کیا بتاوں موٹی سے گول سی گانڈ اور تنگ سا ٹراوزر ۔
غیر ارادی طور پر میرا ایک ہاتھ کمبل کے نچے لن جی اور ۔
روچی کی بیک ابھی بھی میری طرف ہی تھی اور میں نے لن کو مسلنا شروع کر دیا ۔
تصور ہی تصور میں 8 انچ لن کو روچی کی گانڈ میں اتاررئا تھا ۔
ایسی صورتحال اور سین پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔ البتہ پورن فلمیں ضرور دیکھی ہیں ۔
لیکن اتنا مزہ اور سرور ۔۔۔۔۔۔۔۔
یہی سوچ رہا تھا کہ الماری پر لگے شیشے پر نظر پڑی ۔
وڑ گئے یار پھر پکڑا گیا ۔ روچی اسی شیشے میں پیچھے مجھے دیکھ رہی تھی ۔ اس کی آنکھوں میں شرارت تھی ۔ جیسے وہ میری صورتحال کو انجوائے کر رہی تھی ۔
میرا لن اس وقت فل تنا ہوا تھا ۔ اس سے پہلے کہ روچی کی نظر لن پہ پڑتی میں نے دائیں کروٹ لی ۔
روچی جھاڑو لگاتے لگاتے گھومی اب اسکا چہرہ میری طرف تھا ۔ میرا ایک ہاتھ لن پہ تھا ۔ روچی کے ممؤں کے درمیان کی لکیر اب چار پانچ انچ تک لمبی ہو چکی تھی ۔
برا کے بغیر ممے اسکی شرٹ کے اندر جھول رہے تھے ۔
میں بڑے غور سے انہی کو دیکھ رہا تھا ۔ روچی مزید دوہری ہوتی کھلے گلے کی حد ختم ہو گئی لیکن اسکے مموں کی حد ختم نہیں ہوئی
یعنی کافی بڑے گول گول سے تھے ۔ لن اس وقت فُل جوبن پہ تھا ۔
روچی نے دوبارہ میری طرف نہیں دیکھا بلکہ شریف لڑکیوں کی طرح اپنا کام کرتی رہی اور مجھے قدرت کے حسین نظارے کرواتی رہی ۔ ۔۔۔۔
جونہی وہ باہر گئی میں نے سکھ کا سانس لیا ۔ کیونکہ مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔
میرا دل چاہا باتھ روم جاکر ایک پیاری سی مٹھ لگاوں ۔
پھر سوچا نہیں یار یہ گناہ ہے ۔
اچھا بہن کے ممے دیکھنا کوئی گناہ نہیں ۔
واہ رے منافق
اس دن کچھ اور خاص نہیں ہوا ۔ ہلکا پھلکا کھانا کھا کے سونے کے لیے لیٹ گیا لیکن جاگتا رہا ۔
میرے کمرے کا دروازہ کھلا میں نے دروازے کی طرف دیکھا تو روچی آپی ہی تھی ۔ جو میری روح میں رچ بس گئی تھی ۔
اس نے فورا بڑی لائٹ بند کی۔ اور زیرو کا بلب جلا لیا ۔ وہ دبے پاوں میرے بیڈ کی طرف آئی ۔
اور میرے پیٹ کے مقابل بیڈ پر بیٹھ گئی ۔ پہلے میری طبیعت کے بارے میں پوچھا پھر کچھ دیر خاموش رہی ۔
میں نے کہا روچی خیریت ہے ؟ کیا بات کرنی تھی ؟
تو روچی نے بیٹھے بیٹھے اپنا رخ میری طرف میری طرف موڑ لیا اور کہنے لگی
میں نے جب سے آنکھ کھولی ہے بچپن سے لیکر اب تک ، تمھیں اپنے ساتھ دیکھا ہے ۔ تمھارے ساتھ بچپن گزارا ، جوانی بھی تمھارے ساتھ ہی گزر رہی ہے ۔
کامی انسان جتنا بھی ماڈرن اور غود غرض ہو جائے نا ، اس کو بچپن کا ساتھی نہیں بھولتا ۔ وہ بچپن کی محبت فراموش نہیں کر سکتا ۔
تم ہمیشہ میرے ساتھ رہے مجھے تحفظ دیا ۔ میرے دوست بن کر بھائی بن کر ۔
میرا تو تمھارے سوا کوئی نہیں ۔ نا بچپن میں کوئی خاص سہیلی بنائی ، نا اب ہے ۔ سب واجبی سے تعلقات ہیں ۔ لیکن روح کا ساتھی کوئی نہیں ۔ اگر ہے تو وہ بلاشبہ تم ہو ۔
جتنی محبت تمھیں مجھ سے ہے ۔ اس سے بڑھ کر میں تم سے محبت کرتی ہوں ۔
روچی کے چہرے پر غصہ یا کرب نہیں تھا لیکن اتنا جانتا تھا وہ جو کہہ رہی ہے وہ دل سے کہہ رہی ہے ۔
کامی تم میر جان ہو میرے جگر کا ٹکڑا ہو ، میرے جسم کا حصہ ہو ۔
پچھلے کچھ دنوں سے میں تمھاری نظروں کا تعقب کرتی رہی ہوں ۔ ان نظروں میں تبدیلی کو بھی محسوس کیا ہے ۔
میرے بھائی میرے یار !!!!!! عورت کو یہ خوبی ہے وہ اپنی طرف اٹھی ہر قسم کی نگاہ کو پہچان سکتی ہے ۔ اس میں حوس ہے نفرت یا محبت ۔
اور مجھے پچھلے کچھ دنوں سے تمھاری نگاہوں میں محبت کی تپش محسوس ہوئی ہے ۔ یہ پہلے محبت تھی ۔ اب اس میں شدت آگئی ہے ۔
پہلے پہل تو میں اس کو حوس سمجھتی رہی ۔ اور سوچتی رہی ایک بھائی کیسے اپنی بہن کو حوس کی نظروں سے دیکھ سکتا ہے ۔ لیکن تم نے جیسے مجھے تھپڑ مارا اور خود اس تپش میں جلتے رہے ۔
اسکا اندازہ میں لگا سکتی ہوں ۔ جس دن تم گھر پہ نہیں تھے میں پورا دن تمھارے ہی بارے سوچتی رہی ۔ کہ اپنی بھائی کو اپنی زندگی سے نکال کر کیسے محسوس ہوتا ہے ؟
کامی !!!! یہ سوچتے ہوئے میری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی سانس نیچے رہ گئی ۔۔۔۔۔۔
ناجانے کب روچی نے میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر گود میں رکھ لیا تھا ۔ اس سے بے خبر اس کی باتیں سن رہا تھا ۔ مجھے پتا اس وقت چلا جب گرم آنسووں کے چند قطرے میرے ہاتھ پر پڑے ۔
اس نے اپنی بات جاری رکھی اور مزید کہا ۔
تم مجھ سے محبت کو کوئی نام نہیں دے سکتے ۔ یہ بہن بھائی کی محبت سے بڑھ کر ہے ۔تم اب میرے جسم کو بھی دیکھتے ہو ، اس لیے مجھے تمھاری نظروں میں بدلاو نظر آیا ، مجھے یاد ہے کامی جب تم نے اسی بات پر اس لڑکے کو قتل کرنا چاہا کہ اس کا ہاتھ میری طرف بڑھ رہا تھا ۔
تم نے یہ نہیں کہا یہ بہن ہے میری ۔
یہ جان ہے میری ۔ ۔۔۔۔ یہ کہا تھا ۔
میں اس وقت سر سے پاوں تک کانپ گئی تھی ۔ ایسی محبت تو عاشق نہیں کرتے ۔ کم سے کم مجھے ایسا تجربہ نہیں ۔ تم نے مجھے روح کا ساتھی کہا تھا ۔۔۔۔ لیکن میں کنفیوز تھی کہ کامی میری جسم کو کیوں دیکھتا ہے ۔
اس لمحے پر روچی آپی کی آواز میں ٹھہراو آگیا یعنی جزبات کی رو سے نکل آئی ۔ اور میں بھی اس کو ٹوکنا نہیں چاہ رہا تھا ۔
میں نے جب اس پر سوچا تو ایک بات میرے زہنی میں آئی کہ میرا بھائی مجھ سے دل و دماغ اور روح سے پیار کرتا ہے ۔
اور روح تک جانے کے لیے راستے میں جسم پڑتا ہے ۔ جو صرف جسم کا سوچ کر چلتے ہیں اور جسم تک محبت رکھتے ہیں ۔ وہ اس جسم کو حاصل کرنے کے بعد بدل جاتے ہیں ۔ ان کی محبت ختم ہو جاتی ہے ۔ لیکن روح سے محبت کبھی ختم نہیں ہوتی ۔
میرے بھائی مجھے نہیں پتا مجھے کیا کہنا چاہیے ۔ میں نے بھی کبھی تم سے سیکس کا نہیں سوچا ۔
بس اپنے بھائی سے محبت کرتی ہوں اور بہت کرتی ہوں ۔
اگر تو تمھارے زہن میں میرا جسم ہی ہے تو میں ابھی کپڑے اتار دیتی ہوں ۔ اور میرا جسم حاصل کر کے محبت ختم کر لو ۔
اس کے بعد روچی آہستہ سی آواز میں روئی اور مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھنے لگی ۔ اس نے مجھے بہت بڑی آفر کی تھی ۔ دن کو جو یورپی چینل لگا رکھا تھا اس کے پیچھے یہی کہانی تھی
لیکن
مجھے روچی آپی بہت دور محسوس ہوئی ۔ اور خود کا وجود بہت نیچ محسوس ہوا ۔ یہ میری بھی محبت کی توہین تھی ۔ مجھے تو روچی آپی دل و جان اور روح سے چائیے ۔ صرف جسم سے نہیں ۔
روچی ابھی بھی میری طرف دیکھ رہی تھی ۔ شاید جواب چاہتی تھی ۔
میں نے اپنا ہاتھ جو اسکی گود میں تھا آہستہ سے اپنی طرف کھینچا ۔ روچی میرا ہاتھ چھوڑنے والی تھی لیکن میں نے چھوڑنے نہیں دیے ۔ بلکہ اپنے ہاتھ کے ساتھ اس کے ہاتھوں کو اپنے چہرے تک لے آیا ۔
اور لمبا سا بوسہ اس کی ہاتھوں کو دیا ۔
روچی میری جان اسکا جواب میں دے چکا ہوں ۔ مجھے صرف تمھارا جسم نہیں چاہیے ۔
مجھے اپنی بہن کو خوش دیکھنا ہے چاہے کسی بھی قیمت پر ۔
ہاں میں تمھارے جسم کو دیکھتا رہا ہوں اور دیکھتا ہوں ۔ روچی لڑکیوں کے جسم بہت خوبصورت ہیں ۔ کچھ کے ساتھ میں پڑھتا رہا ہوں ۔ ھاصل کرنا چاہتا تو کر لیتا ۔
لیکن میں حسن پرست نہیں ہوں ۔ تمھاری طرف دیکھتے ہوئے میرےدل میں یہی ہوتا ہے کہ یہ میری بہن ہے اور میری بہن کا جسم ہے ۔ یہ وہ بہن ہے جس سے میں بہت زیادہ پیار کرتا ہوں ۔ میری بہن میری دیوی ہے ۔
روچی میں بس اتنا جانتا ہوں میں اپنی بہن کو مکمل طور پر چاہتا ہوں ۔ اس کا دل روح اور جسم سب کچھ ۔ مجھے صرف جسم نہیں چاہیے ۔
اور دوبارہ اسکے ہاتھوں کو اپنی آنکھوں سے لگا لیا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماحول میں اب عجیب سے گھٹن تھی ۔دونوں کو کئی سوالات کے جوابات کھل کر مل چکے تھے
لیکن ایک بات جو ہم میں طے نہیں ہو پا رہی تھی ۔
وہ تھی ہماری حدود ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
روچی نے اپنے ہاتھ مجھ سے چھڑوا کر میرے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں لے لیا ۔ اور کہا
میرا سب کچھ تمھارا ہے ۔
لیکن سیکس کا نا میں نے سوچا ہے نا تم سوچنا ۔
مجھے بھی نہیں پتا کہ انجام کیا ہوگا ۔ لیکن میں اپنے بھائی کے ساتھ اپنی زندگی کا ایک ایک لمحہ انجوائے کرنا چاہتی ہوں پیار لے کر پیار دے کر ۔
میرے ساتھ چل سکتے ہو تو چلو ۔ جو بھی اور جیسے بھی حالات آئے دیکھ لیں گے ۔
کامی میں بہت خالی ہوں ۔ مجھے کسی مرد نے آج تک چھوا تک نہیں ۔نا میں نے کسی مرد کے بارے میں ایسا سوچا ۔ میری زندگی میں ایک ہی مرد ہے اور وہ میرا بھائی ہے ۔
اگر منظور ہے تو ہاتھ آگے بڑھاو ۔۔۔۔
میں ریاضی میں ہی کمزور نہیں تھا بلکہ رشتوں کو سمجھنے بھی کمزور تھا شاید ۔ اس لیے ابھی تک کنفیوز تھا ۔۔۔۔۔
لیکن روچی کی اتنی قربت سے میں پگھل چکا تھا اور سوال کرنے کا حوصلہ نہیں تھا ۔
کہ سیکس نہیں کرنا تو پھر خالی پن کو کیسے ختم کروں، ہر لمحہ انجوائے کرنے کا کیا مطلب ؟
میری آنکھوں میں روچی نے جھانک لیا تھا ۔ اور میرے سوال کو سمجھ چکی تھی ۔
اچانک ہنس پڑی ۔
اس نے میرے چہرے سے ہاتھ اٹھا لیے اور خود بھی بستر سے اترتے ہوئے کہا
بدھو ۔۔۔۔۔
کمرے سے باہر جانے لگی ۔ اور میں کچھ نہیں سمجھ پا رہا تھا ۔ اسکے پیچھے بھاگا ۔
میں نے اچانک اس کا ہاتھ پکڑ لیا اور پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔
روچی آپی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔
بدھو اورل سیکس oral sex کی بات کر رہی ہوں ۔
یہی ہماری حد ہے ۔
آئے بڑے اپنی بڑی بہن کو سنبھالنے والے ۔
اور ہنستے ہوئے تیزی سے کمرے باہر چلی گئی ۔
مجھے اپنے کانوں پر یقین نہیں آرہا تھا ۔ بلکہ مجھے ساری گفتگو ہی خواب لگی ۔ اور سچ میں اپنے جسم کو چٹکی کاٹی ۔
میں اپنے بستر پر گر پڑا ۔ خوش نہیں تھا بلکہ خوشی کے ساتویں آسمان پر تھا ۔
اپنی ہی بہن سے محبت اور بدلے میں اس کی محبت مل چکی تھی
یقین مانیں اس سٹیج پر سیکس نا بھی تو بھی کوئی ہرج نہیں ۔ سگی بہن بانہوں میں ہو اور روح سے روح کا ملاپ ہو ۔ اس سے بڑھ کر سیکس کبھی خوشی نہیں دے سکتا ۔
مجھے اپنی قسمت پر رشک آنے لگا ۔ دل چاہ رہا تھا بھاگ کر روچی کے کمرے میں جاوں ۔
اور اس کو اپنے گلے لگا لوں ۔
انہی سوچوں میں تھا موبائل پر واٹس اپ میسج آیا ۔
دیکھا تو وہ روچ تھی ۔
میرا بچہ ابھی تک سویا نہیں ۔ ؟
میری جان مت سوچو اور سو جاو ۔ تمھاری بہن صرف تمھاری ہے ۔ اور یاد رکھنا میرا بھائی صرف میرا ہونا چاہیے ۔ محبت میں کہیں ملاوٹ ہوئی تو میں تمھیں تو کچھ نہیں کہوں گی ۔
پر خود کو نہیں چھوڑوں گی ۔۔۔
روچی آپی کے رویے اور الفاظ کے چناو نے مجھے محبت سے دھکیل کر عشق کی وادی میں اتار دیا تھا ۔
میری دیوی کو جو منظور ۔۔۔۔
میرے جواب پر روچی آپی نے سمائل والا ایموجی بھیجا اور گڈ نائٹ کہہ کر سو گئی ۔۔۔۔
اس وقت رات کے 2 بج چکے تھے ۔۔۔۔
اب بہن چود نیند کہاں سے آئے ۔ آگے کیا ہوگا ،کا سوچ سوچ کر ہی مجھے اپنی زندگانی کا ان پل کا مزہ آنے لگا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔