-->
Home Complete Stories On-Running Famous
Urdu Stories

بہن کا شوہر قسط 10


اگلی صبح چھوٹی باندری کو سکول اتارا یونیورسٹی گیا ۔ پڑھنا لن میرا تھا دماغ ہی آوٹ تھا ۔ لڑکیوں کو ایسی پھٹی پھٹی نظروں سے دیکھ رہا تھا جیسے ابھی پھاڑ کے رکھ دوں گا ۔ 

بامشکل چھٹی ہوئی تو پہلے گھر گیا کیونکہ چھوٹی بہن کو ابھی چھٹی نہیں ہوئی تھی

گھر جانے سے پہلے امی کو کال کر کے کہہ دیا کہ تیار ہو جائیں میں لینے آرہا ہوں ۔ 

گھر آکر کار نکالی اور امی کو لیکر بازار ۔ انہیں نے بڑی سے کشمیری شال لے رکھی تھی ۔ بازار آکر امی نے گھر کی ضرورت کی چیزیں خریدیں اور پھر مجھے ایک ٹاون کا بتایا وہاں چلو ۔ جو کہ بالکل شہر سے ملحقہ ہے بلکہ شہر کا ہی حصہ ہے ۔ وہاں آکر امی کار سے اتری تو ایک عمارت میں چلی گئیں ۔ 

بہبود ابادی کا کوئی دفتر تھا ۔ 15 منٹ بعد امی آئیں تو بیٹھتے ہی می نے پوچھا یہاں سے کیا لینا تھا ؟ 

امی نے محبت بھری نظروں سے مجھے دیکھا اور زیر لب کچھ کہا ۔ بعد میں پتا چلا کہ " گدھا "کہا تھا ۔ 

انہوں نے برتھ کنٹرول کا انجیکشن لگویا تھا ۔ ہائے ہائے میری قسمت ۔ میں نے ایک دم گاڑی کو سپیڈ دی تو امی ہنسنے لگیں ۔ سپیڈ آہستہ ۔۔۔ اور نشیلی آنکھوں سے میری طرف دیکھا ۔ 

سچ کہوں تو دل کر رہا تھا کہ کار کسی سنسان علاقے کی طرف موڑ لوں اور امی کو پکڑ لوں آج اسی وقت ۔ 

لیکن مجبور تھا ہم مریو کے سکول گئے ۔ اور اسکو پِک کیا ۔ 

میں بے صبرا ہو رہا تھا سیکس کے لیے ۔ ایک ایک منٹ گزارنا مشکل تھا ۔ مغرب کے وقت تک دو بار مریو سے پوچھ بیٹھا تھا ۔ مریو تم نے سونا نہیں َ ؟ 

نہیں پاپا مجھے نیند نہیں آئی ۔ 

خیر رات کے آٹھ بج چکے تھے میں نے رات کا کھانا بہت کم کھایا تھا ۔ جو سیکس کرتے ہیں ان لوگوں کو پتا ہے کہ جس رات کھانا کم کھایا جائے اس رات سیکس کا اپنا مزہ ہے ۔ 

میں اپنے کمرے میں آگیا اور روچی سے بات چیپ کرنے لگا ۔ آدھا گھنٹا اس سے بات ہوئی ۔ پھر میں کچن میں گیا پانی پیا ۔ اور امی کےروم کی طرف دیکھا ۔ ڈور بند تھا 

سوچ رہا تھا جاوں یا نہیں ۔ اسی لمحے ڈور کھلا تو امی نے مجھے دیکھا اور میں انکو دیکھتے ہی رہ گیا ۔ 

لال جوڑا پہن رکھا تھا اور گلا اتنا کھلا تھا کہ بغیر جھکے ممے کی3 یا 4 انچ لمبی لائن نظر آرہی تھی ۔ 

امی نے کہا کہ سوئے نہیں ۔ 

میں دل میں کہہ رہا تھا کہ رخسانہ میری جان نا تڑپاو کامی کی بس ہو چکی ہے ۔ 

نہیں امی ۔۔۔ بس یہی جواب دیا ۔ 

امی نے کہا دو کپ چائے بناو اور اپنے روم میں لے چلو ۔ 

میں نے جلدی جلدی دو کپ چائے بنائی اور اپنے روم میں اگیا ۔ دروازہ کھولا تو میری رانی میری امی میرے بیڈ کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھی تھی ۔ 

جب اپنے بیڈ کو دیکھا تو میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی ۔ 

میرے بیڈ پر گلاب کی لال پتیاں بکھری ہوئی تھیں ۔ سچ کہوں تو اب میرے ہاتھ میں چائے کے کپ ہلکے ہلکے کپکپا رہے تھے ۔ ۔ خیر ایک کپ امی کو دیا اور کپ خود لیکر انکے سامنے بیٹھ گیا ۔ 

ایک عجیب سا احساس اور نشہ تھا ۔ میں اپنی زندگی کا پہلا سیکس کرنے جا رہا تھا ۔ یہی باتیں سوچ سوچ کر میں مسلسل مسکرا رہا تھا ۔ 

چائے کی دوران امی کو محسوس ہو گیا تھا کہ میں نروس ہو رہا ہوں ۔ یا جھجھک سا رہا ہوں ۔ 

جونہی چائے ختم کی امی اٹھ کر دروازے کی طرف گئیں اور اندر سے لاک لگا دیا ۔ 

میں بھاگتا ہوا ان کے پاس گیا اور ان کو گلے لگا لیا ۔ انہوں نے کھلی بانہوں سے مجھے ویلکم کیا ۔ 

میں نے انکی گردن پر ہونٹ رکھے پھر گردن کو چاٹنا شروع کر دیا ۔ بہت ہی پیاری پرفیوم لگا رکھی تھی جسکی بھینی بھینی خوشبو آرہی تھی ۔ کس کرتا ہوا کانوں کی لو گال آنکھیں ۔ 

اور پھر لب ۔۔۔۔ 

لبوں پہ اپنے لب رکھے اور پھر چوسنے شروع کر دیے ۔ ہم دونوں کی سانسیں تیز ہونا شروع ہو گئیں ۔

پہلے تو میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے انکا چہرہ پکڑ رکھا تھا ۔ پھر ہاتھ انکی کمر پر لے گیا اور لن چار دن سے آدھا کھڑا ہی رہتا ہے لیکن اب فل کھڑا ہو چکا تھا اور وہ ان کے پیٹ پر لگ رہا تھا ۔ 

امی اب پاوں کے پنچوں پر اٹھ رہی تھیں ۔ وہ میرے لن کو پھدی کے پاس یا سمجھ لیں رانوں میں لینا چاہتی تھیں ۔ قد مجھ سے چھوٹا تھا اس لیے دقت ہو رہی تھی ۔ 

میں بھی تھوڑا جھکا اور لن پھدی کے ساتھ جوڑ کر انکی رانوں میں دے دیا ۔ 

اب انکے دونوں بازو مرے کندھوں پر تھے ۔ میں ہاتھ ان کی ہپس پر لے گیا اور ان کو پکڑا اور دبانا شروع کر دیا ۔ امی کا رانوں میں لن لینے کی کوشش سے میں بپھر گیا اور وحشی پن آنا شروع ہو گیا ۔ اس لیے انکی بڑی ہپس یا گانڈ کو نا صرف دبا رہا تھا بلکہ دونوں حصوں کو ایک دوسرے سے الگ الگ کر رہا تھا ۔ 

کم سے کم 5 منٹ ایسے ہی جڑے رہے ایک دوسرے کو چوستے رہے ۔ پھر ہاتھ فرنٹ پر لے آیا اور پہلی بار باقائدہ طور پر ان کے بڑے بڑے مموں کو قمیض کے اوپر سے ہی مسلنے لگا ۔ 

امی کی آنکھیں کسی وقت بند ہو جاتیں اور کسی وقت آدھی آدھی کھول لیتیں ۔ 

کچھ دیر مموں کو دبانے کے بعد ہاتھ پھر انکی ہپس پر رکھے اور امی کو اپنی بانہوں میں اٹھا لیا ۔ 

امی بھی حیران ہوئیں ۔ اور ایسے ہی اٹھا کر میں ان کو بیڈ پر لے آیا ۔ 

اب امی کا وحشی پن بھی جاگ اٹھا تھا ۔ جونہی بیڈ کے پاس آئے امی نے مجھے ہلکا سا دھکا دیا اور بیڈ پہ گرا دیا ۔ 

پھر ایسے ہی میرے اوپر لیٹ گئیں ہم دونوں کی ٹانگیں ابھی تک زمین پر ہی تھین۔ 

میرے اوپر چڑھ کر امی نے میرے پورے چہرے کو چوما ۔ میرے ہونٹوں پر لمبی سے کس کی ۔ 

پھر میری گرن پھر اوپر اٹھیں اپنی قمیض اتارنے لگیں میں نے بھی دیکھا دیکھی اپنی قمیض اتار دی ۔ کیا کریں اولاد کا جو فرض ہے ماں باپ کو فالو کرنا ۔ 

امی نے قمیض اتار کر وہیں فرش پر پھینک دی اور پھر مجھ پر چڑھ گئیں ۔ ریڈ کلر کی قمیض نے نیچے ریڈ کلر کی برا اور گورے چٹے ممے بڑے بڑے ۔ میں تو پاگل ہو رہا تھا ان کو چوسنے کے لیے ۔ میرا دل تھا میں ابھی پکڑ کر انکو اپنے نیچے کروں اور ڈومینیٹ dominate کروں ۔ لیکن شیرنی کافی عرصے سے بھوکی تھی ۔ ان کو پورا موقع دے رہا تھا کہ اپنے اندر کی آگ مٹا لیں ۔ 

امی میرے اوپر اس طرح چڑھیں انہوں نے پوزیشن یہ رکھی کہ وہ میرے لن کے اوپر بیٹھ گئی ۔ جونہی لن انکی پھدی سے ٹکریا تو ان کے حواس مزید کھونے لگے ۔ 

ان کے منہ سے سسکاری نکلی ۔ پھر میرے لبوں پہ کس کر کے وہیں رہیں کچھ دیر ۔ شاید اب وہ مجھے موقع دے رہی تھیں ۔ [/font] ہم دونوں اب بیڈ کے اوپر تھے میں نے انکو گلے لگا کر بیڈ کے اوپر ہی لمبا کر دیا ۔ اور خود اوپر آگیا ۔ اب میں نے کسنگ ان کی گردن سے سٹارٹ کی اور مموں کے درمیان آگیا چومتا ہوں برا کو نیچے کرنے لگا ۔ امی تھوڑا اوپر اٹھیں اور پیچھے سے برا کی ہک کھول دی ۔ 

38 انچ کےدودھ جیسے سفید بڑے بڑے ممے اور بڑی بڑی نپلز ۔ نپلز کا رنگ تھوڑا گہرا تھا لیکن جو گول دائرہ یا سرکل تھا وہ لائٹ براون تھا ۔ گورے مموں پر پرفیکٹ سرکل تھے ۔ میں نے چاٹنے کے انداز میں اس سرکل پر زبان پھیری ۔ میں نے ٹائم ضائع کیے بغیر ان پر ہاتھ پھیرا اور پھر نپلوں پر کس کرنے لگا ۔ اور پھر چوسنے لگا ۔ 

امی کے منہ سے آہ کی آوازیں آنے لگیں ۔جی بھر کر ممے چوسے ۔امی نے اپنی دونوں ٹانگوں کو میرے گرد لپٹا لیا تھا ۔ تاکہ میرا لن ان کی پھدی پر لگتا رہے ۔ یہ خواتین کتنی خود غرض ہوتی ہیں توبہ ۔ 

اب میں نے انکی شلوار نیچے کی اور لائف میں پہلی بار امی کی پھدی دیکھی ۔ میں سوچ رہا تھا کہ جھریاں پڑی ہوں گی ۔ لیکن یہ تو بالکل شاندار تھی اور بالکل صاف ۔ بغیر بالوں کے بغیر جھریوں کے ۔ 

امی کو بھی اندازہ تھا کہ میں کیا کرنے والا ہوں ۔ ان کی ٹانگیں خود بخود ہی کھلتی گئیں ۔ اور میں آسانی سے انکے ٹانگوں کے درمیان آگیا اور پھدی کے اوپر ہلکی ہلکی کسنک کی ۔۔ میرا منہ اور زبان اپنی پھدی پر محسوس کر کے امی آپےسے باہر ہونے لگیں ۔ اور اونچی اونچی سانسیں لینے لگیں ۔ نہ صرف یہ کہ میری گردن وغیرہ کو اپنی ٹانگوں کے بیچ میں لے لیا تھا ۔ 

کچھ دیر چاٹنے اور گیلا کرنے کے بعد میں نے اپنا ٹراوزر بھی اتار دیا ۔ 8 انچ لمبا اور اڑھائی تین انچ موٹا لن دیکھ کر امی کے چہرے پر پہلے حیرت پھر مسکان پھیل گئی ۔ 

وہ اپنی جگہ سے اٹھیں ۔ انہوں نے میرے لن کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اور کیوٹ سے انداز میں اس پر ہاتھ پھیرنے لگیں جیسے پیار کر رہی ہیں ۔ مجھے بس اتنا پتا ہے انہوں نے میرے لن پر مٹھی بند کی پھر دوسرے ہاتھ کی مٹھی لیکن پھر بھی ٹوپی ان مٹھیوں سے آگے تھی ۔ 

وہ میرے لن کو اپنی طرف کھینچنے لگیں شاید منہ میں لینا چاہ رہی تھیں ۔ 

اور جب میں اپنی جگہ سے نہیں ہلا تو انہوں نے نشے میں ڈوبی آواز میں کہا ۔ 

چکھاو گے نہیں ؟ 

میں نے کہا امی جان ۔۔۔۔ ابھی نہیں پلیز ۔ 

امی نے کہا پھر انتظار کس چیز کا ہے ۔ کامی اس کو میری آگ کے اندر اتار دو ۔ 

لن اس وقت تک فل تنا ہوا تھا ۔ 

میں نے انکی دونوں ٹانگوں کو اپنی طرف کھینچ کر ان کو لٹایا ۔ 

امی سمجھ چکی تھیں کہ اندر ڈالنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے کمر سیدھی کی ٹانگیں پوری کھول دیں ۔ میں نے لن کو انکے پیٹ پر رکھا اور نیچے پھدی کی طرف واپس لانے لگا ۔ 

جونہی ٹوپہ انکے پھدی کے کنارے پر لگا ان کی جسم نے جھرجھری لی ۔ 

نا کرو ایسا کامی ۔ مت ترساو ۔ امی کی آنکھیں بند تھیں اس وقت 

میں نے لن کی ٹوپی کو ان کی پھدی کی لائن پر رکھا اور پھر پھیرا ۔ تاکہ ٹوپے کے اوپر ملائم اور چکنا پانی لگ جائے ۔ 

کامی کیا کر رہے ہو اندر ڈالو میں مر رہی ہوں ۔ امی کی آواز روہانی سی تھی ۔ 

میں نے پہلے ان کی ٹانگوں کو اپنی بغل میں قابو کیا ۔ تاکہ یہ بند نہ کر سکیں ۔ اور پھر لن کا ٹوپہ سوراخ پر رکھ کر زور سے اندر جھٹکا مارا ۔ 

امی کی آہ ہ ہ ہ ہ کی لمبی اور اونچی آواز نکل گئی جس میں درد کی شدت زیادہ تھی ۔ میرا 30 فیصد لن اندر تھا ۔ اب امی اپنی ٹانگیں بند کرنا چاہ رہی تھیں ۔ 

میں نے ہلکی سے مسکراہٹ کے ساتھ کہا ۔ نا رخسانہ جانی ۔۔۔۔ بہت ظلم سہہ لیے آج نہیں ۔ 

امی اب کراہ رہی تھیں ۔ میں نے لن کو واپس نہیں کھینچا بلکہ باقی پر بھی دباو ڈالا ۔ 

یہ میرا پہلا تجربہ تھا ۔ لیکن کچھ انچ کے بعد امی کی پھدی تنگ ہونا شروع ہو گئی ۔ شاید وہ جگہ ابھی کنواری تھی یہاں تک لن پہنچا ہی نہیں تھا ابو کا ۔ 

اب امی کا منہ لال سرخ ہو چکا تھا درد سے ۔ ترس کھاتا تو پیچھے کر لیتا ۔ لیکن مجھے انکا اقوال زریں یاد تھا ۔ 

مجھ پر رحم نہ کھانا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

میں نے انکے کندھو کو پکڑا ۔ نیچے سے ہپس اٹھنے سے پھدی مزید اٹھ گئی ۔ امی کو بھی سمجھ آگئی کہ ابھی آدھا لن جو باقی ہے وہ بھی اندر لینا ہی پڑے گا ۔ 

امی نے آنکھیں بند کیں اور کہا now push inside ۔ وہی فلم والا ڈائیلاگ 

میں نے بھی ایک اور جھٹکا مارا اور جتنا لن ممکن تھا پھدی کے اندر ڈال دیا تھا ۔ امی کی ایک پھر چیخ ماری ۔ بہت اونچی نہیں تھی لیکن گھر کے اندر سے کوئی بھی سن سکتا تھا ۔ اور ساتھ ہی سسکنے لگیں ۔ لن کا چوتھائی حصہ باہر تھا باقی تین حصے امی اندر لے چکی تھی ۔ سچ تو یہ ہے کہ اتنی ٹائٹ پھدی سے لن کی ٹوپی جو پتھر کی طرح سخت تھی اس پر بھی ہلکی ہلکی درد ہونے لگی ۔ اب لن آگے نہیں جا رہا تھا ۔ ٹوپے پے کوئی دیوار سے محسوس ہو رہی تھی شاید بچہ دانی تھی ۔ مجھے ڈر بلیڈنگ کا بھی تھا ۔ یا انر انجری کا ۔ اب میں نے آدھا لن پیچھے کیا اور دو مزید جھٹکے مارے ۔ امی کی چیخ بلند ہوئ اور آنکھوں میں درد کی شدت سے پانی آگیا ۔ انکا سانس پھول رہا تھا ۔ اور پورا لن پھدی میں اتر چکا تھا ۔ امی نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر لزت سے بھرپور انداز میں کراہنا شروع کر دیا ۔ ابھی لن تھوڑا واپس ہی کھینچا تھا کہ پانی کا سیلاب مجھے لن پر محسوس ہوا ۔ ادھا لن باہر کر کے پھر اندر ڈال دیا ۔ یوں 5 یا 6 بار کیا ۔ امی کی سسکاریاں لگاتار نکل رہی تھیں ۔ اب ان کی سانس نارمل ہوئی تو انہوں نے ٹانگیں میری بغل سے چھڑوانی کی کوششیں ختم کر دیں ۔ میں نے بھی انکی دونوں ٹانگوں کو چھوڑ دیا اور خود امی کے اوپر لیٹ گیاانکے ممے مجھ اپنے سینے پر محسوس ہو رہے تھے ۔ امی کا جسم پسینے میں بھیگ چکا تھا ۔ حلانکہ رات کو موسم بہت اچھا ہو جاتا ہے ۔ میں نے لن کو اندر ہی رکھا اور گردن جاٹی نمکین نمکین پسینے اور پرفیوم کی ملاوٹ نے عجیب ہی سماں باندھ دیا تھا ۔ میں نے اپنی ہپس کو پھر پیچھے کیا لن کو ٹوپی تک باہر نکالا بس ٹوپی اندر رکھی ۔ اور پھر جھٹکا مارا ۔ آہ کی آواز پھر بلند ہوئی ۔ ایسے تین جھٹکوں میں لن پھر جڑ تک پھدی کے اندر ۔ اتنا بڑا افففف کامی میری جان ۔۔۔۔۔ ان کی سانسیں اکھڑی سی تھیں ۔ میں نے اب لن کو اندر باہر کرنا شروع کیا یعنی چودنے لگا ۔ ابھی 4 یا 5 ہی جھٹکے مارے انہوں نے زور سے مجھے اپنی گرفت میں لے لیا تھا اب باقائدہ میں لن کو اپنی پھدی سے جکڑ لیا ۔ مجھے پتا تھا اب یہ فارغ ہونے والی ہیں ۔ میں نے جھٹکے تھوڑے تیز کیے ۔ جونہی پانی آیا توں ہی پھدی اور لن سے پچ پچ کی آوازیں آنے لگیں ۔ ایک ایک لمحہ اور موو نئی تھی میرے لیے ۔ لیکن بھلا ہو انگریزوں کا اور انکی پورن فلموں کا ۔ ایک ایک چیز ہمیں سکھا دی ۔ امی فارغ ہوئیں تو لگاتار جھٹکوں اندر سے چکنے پانی سے یا پھسلن سے مجھے بھی جوش چڑھ چکا تھا ۔ اب امی کو بھی میری منزل کا پتا چل چکا تھا ۔ کیونکہ لن اکڑ جاتا ہے رگیں پھول جاتی ہیں اور جسم میں عجیب سے سنسناہٹ سی آجاتی ہے ۔ امی نے ٹانگوں کو میری کمر کے گرد لپیٹنا چاہا لیکن درد ہوئی پھر کھلی رہنے دیں ۔ مجھے اشارے سے اپنے اوپر بلایا ۔ میں جونہی ان پر جھکا انہوں نے مجھے لبوں پر کس کیا اور کہا اندر ہی فارغ ہونا ۔ ایک قطرہ بھی باہر نہیں گرنا چاہیے ۔ جوش ساتویں آسمان پر تھا اور پھر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا جسم ہلکا سا کانپا لزت سر کی چوٹی سے پاوں تک چھانے لگی ۔ اور میں فارغ ہوتا ہی گیا ۔ کتنے ہی سیکنڈ تک میرا مادہ پھدی کے اندر ہی اندر گرتا جا رہا تھا ۔ مادہ نہیں بلکہ ابلتا ہوا پانی تھا جس کی گرمائش امی نے بھی محسوس کی اورانکی آنکھیں بند ہو چکی تھیں ۔ دونوں تیز تیز سانسیں لینے لگ گئے ۔ اور کافی دیر لن پھدی کے اندر ہی رکھا ۔ لن نکالنے کے لیے ان کے سینے سے الگ ہوا تھا مموں پر نظر پڑی ۔ وہ اکڑے ہوئے تھے عجیب سی شیپ میں تھے ۔ میں نے پھر مموں پر ہاتھ پھیرا اور منہ میں لیکر چوسا ۔ میری حیرت کی انتہا نہیں رہی ۔ جب لن جو کھڑ اتو پہلے ہی تھا لیکن اسکی اکٹر ختم ہو چکی تھی ایک بار پھر تن گیا ۔ صرف 2 منٹ میں ۔۔۔۔ سیکس کے شوقین جانتے ہیں کہ بہت کم ہی لوگ ہوتے ہیں جو فارغ ہوتے ساتھ ہی پھدی کے اندر سے دوسرا جیک اٹھا لیتے ہیں ۔ یعنی دوسری بار کرنے لگتے ہیں ۔ ورنہ لوگوں کی زبان نکل آتی ہے ۔ جونہی لن میں تناو آیا تو امی نے پھدی کے اندر محسوس کر لیا ۔ اور فورا کہا نہیں بیٹا کامی ۔ سانس لے لو ۔ نہیں امی ۔۔۔۔۔۔۔ اور کچھ نہیں سنا اور جھٹکے شروع ۔ 5 سات جھٹکے تو امی نے برداشت کیے اس سے آگے ان سے برداشت نہیں ہو رہا تھا ۔ ان کے چہرے پر اب درد کے آثار تھے ۔ میں نے ان کی ٹانگیں بغل سے ہٹائیں اور جتنی کھل سکتی تھیں کھول لیں ۔ جس سے انکو مزید درد ہوا ۔ انکے سر کے نیچے سے تکیہ نکالا اور ہپس کے نیچے دیا ۔ اب پھدی کافی اٹھ چکی تھی ۔ اب میں بہت تیزی سے چود رہا تھا ۔امی کی آہیں پھر بلند ہوئیں ۔ لن اور پھدی سے پچ پچ کی اور جسم سے جسم ٹکرانے تھپ تھپ کی آوازیں بھی آنے لگیں ۔ جتنا ممکن تھا امی نے میرا ساتھ دیا ۔ مجھ پر گولیوں کا اثر تھا یا پھر جو جان بنائی تھی اس وجہ سے تھکاوٹ کے آثار بالکل نہیں تھے ۔امی اب ہانپ رہی تھیں لیکن مجھے روکا نہیں ۔ اور خود تیسری بار فارغ ہو چکی تھیں لیکن اب پانی کم نکلا تھا انکا ۔ 15 سے 20 منٹ میں پھر رگیں پھولنے لگیں ۔ لن اکڑنے لگا اور پھدی کے اندر ہی فارغ ہوتا گیا ۔ ایک ایک قطرہ پھدی نے نچوڑ لیا تھا ۔ اور میں امی کے اوپر ہی لیٹ گیا امی نے اپنے بازوں میں مجھے سختی سے بھر لیا اور میری ہپس پر پھر اپنی ٹانگوں سے قینچی مار لی ۔ میرے پورے چہرے کو بہت تیزی سے خوشی سے چوم رہیں تھی ۔ انکی آنکھوں میں اطمینان اور آنسو بھی تھے ۔ شاید لائف میں پہلے بار ایسا سیکس کیا تھا انہوں نے ۔ اب میں نے لن کو باہر نکالا ۔ لیکن عجیب تھا پورا بیٹھ ہی نہیں رہا تھا ۔ آدھا پھر بھی کھڑا تھا ۔ جونہی لن باہر نکالا امی کی پھدی سے میری منی کافی مقدار میں باہر انے لگی ۔ ایک دوسرے کو گلے لگا کر ننگے ہی لیٹے ہوئے تھے ۔ انہوں نے میرے ہاتھ پکڑے اور چومنے لگیں ساتھ کچھ کچھ رونے لگیں ۔ میں نے کہا میری جان کیا ہوا ؟ سوری بہت ہرٹ کیا آپ کو ۔ امی نے مزید سختی سے میرے ہاتھ جکڑ لیے ۔ اور روتے ہوئے کہا ۔ اتنی درد تو سہاگ رات کو نہیں ہوئی ۔ لیکن اتنی لزت بھی پوری زندگی نہیں ملی ۔ میں نے انکے ماتھے پر کس کیا اور کہا آپ خوش ہیں ؟ امی نے کہا ہاں بہت ۔۔۔۔۔ 15 منٹ ایسے ہی لیٹے رہے امی اب اپنے کمرے میں جانے لگیں تو میں نے انکو روک لیا ۔ انہوں نے کہا نہیں کامی میری جان ۔ اتنا سیکس ٹھیک نہیں ۔ مجھ سے اٹھا نہیں جا رہا پچھلے 5 منٹ سے کوشش کر رہی ہوں ۔ ویسے بھی کونسا بھاگی جا رہی ہوں ۔ یہیں ہوں ۔ میں نے کہا بس آخری بار آج کی رات ۔ ۔۔۔ امی اب حیرت زدہ تھیں ۔ میں نے انکا ہاتھ پکڑا اور اپنے لن پر لے گیا ۔ وہ بامشکل اٹھیں اور بیڈ کے چادر سے میرے لن کو صاف کیا ۔ میرے بیڈ کی چادر مکمل طور پر بھیگ چکی تھی ۔ اتنا پانی نکلا تھا دونوں کا ۔ اور پھر امی نے میرے لن کی ٹوپی پر کس کی ۔ ایک کس لیکر کر امی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔کامی یہ واقعی بہت بڑا ہے ۔ خواتین سے ایک دوسرے کے مردوں کا سنتی رہتی ہیں ۔ لیکن آج تک اتنے لمبے اور موٹے لن کا کسی سے نہیں سنا ۔ دو تین بار تو میری بالکل بس ہو چکی تھی ۔ یہاں سے بھاگنے لگی تھی ۔ لیکن تم سے کہا نہیں ۔ میرا بھی سینہ چوڑا ہو گیا اپنی تعریف سن کر ۔ ماں باپ جب اولاد کی تعریف کرتے ہیں تو اولاد کے لیے فخر کا مقام ہوتا ہے ۔ انہوں نے آدھا لن منہ میں لیکر چوسنا شروع کیا ۔ وہ بالکل اناڑی تھیں ۔ لیکن لن پھر ٹائٹ ہو چکا تھا ۔ انکے ننگے مموں کو دیکھ کر انکو اپنے اوپر گھوڑی کی پوزیشن میں جھکا دیکھا کر ۔ 


2 چار منٹ میں لن چوسنے کے بعد اب میں نے انکو اپنی طرف کھینچا ۔ امی نے میری نیت بھانپ لی تھی ۔ اور خود ہی لیٹنے لگیں ۔ لیکن میں انکو کہا ایسے نہیں امی ۔ 

وہ پھر گھوڑی بننے کے لیے گھومنے لگی تھیں تو میں نے کہا امی ایسے بھی نہیں ۔ 

امی اب سوالیہ نظر سے مجھے دیکھنے لگیں ۔ میں بیڈ سے اتر گیا اور انکو بھی اتار لیا ۔ پہلے تو بھرپور لمبی سے کس کی ۔ انکے ہونٹ اور ممے چوسے پھر انکے پیچھے آگیا ۔ انکا منہ میرے بیڈ کی جانب تھا اور میں انکی ہپس میں اپنا لن پھنسا رہا تھا ۔ امی کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی ۔ 

اب خود ہی انہوں نے اپنی بائیں ٹانگ اٹھا کر بیڈ کے اوپر رکھی ایک نیچے فرش پر رکھی ۔ 

ایسا کرنے سے انکی ہپس ایک تو اوپر کو اٹھ گئی اور دوسرا ہپس پیچھے کو باہر نکل آئی ۔ 

مجھ وحشت چھانے لگی ۔ اور انکی جو ٹانگ بیڈ پر تھی اسکے ساتھ میں نے بھی بائیں ٹانگ بیڈ پر رکھی ایک نیچے ہی رہنے دی ۔ تھوڑا سا خود جھکا لن ہاتھ میں پکڑ کر پیچھے سے لن انکی پھدی میں ڈال دیا ۔  

آہ ہ ہ ہ کی آوازآئی اور میں نے مزید پش کر کے آدھا لن پھدی میں ڈال دیا تھا ۔ 

کچھ دیر ایسے ہو چودتا رہا اور امی پھر سے گرم ہو چکی تھیں ۔ انہوں نے بیڈ والی ٹانگ پھر نیچے فرش پر دوسرے ٹانگ کے ساتھ جوڑ لی ۔ 

ایسا کرنے انکی ہپس بھی بند ہو گئیں اور پھدی بھی ۔ اب میرا لن رگڑیں کھاتا ہوا پھدی میں آ جا رہا تھا ۔ لیکن ہپس پر تھپ تھپ کی آواز کا عجیب ہی نشہ چھا رہا تھا ۔ امی درد سے کراہ رہی تھیں لیکن اس درد میں لزت انتہا کی تھی ۔ 

میں نے پھر انکے کندھے پکڑے ان کو سیدھا اوپر کھڑا کرنے لگا ۔ یہ پوزیشن امی کے لیے بہت ہی تباہ کن ہوتی ۔ اس طرح عورت کو زیاد ہ تکلیف ہوتی ہے ۔ 

میں پوری طاقت سے لن کو اندر اور باہر کر رہا تھا ۔ آخر کتنی دیر ؟ امی کی ہپس کھلتی گئی اور وہ پھر سے بیڈ کی جانب دوہری ہونے لگیں انکی سانسیں انتی تیز تھیں کہ پورے کمرے میں ان کے ہانپنے کی آوازیں گونج رہیں تھیں ۔ میں نے انکو پیچھے سے سختی سے ہگ کر کے جکڑ رکھا تھا ۔ میرے دونوں بازو انکے مموں کے اوپر لپٹے ہوئے تھے ۔ ان کی لزت کی انتہا تھی جسم کانپ رہا تھا لن پھدی کے اندر تھا ۔اور سخت جھٹکے لگاتار لگا رہا تھا ۔ پھر پچ پچ کی آواز آئی امی ایک ہی رات میں چوتھی بار فارغ ۔پانی کچھ ٹانگوں پر کچھ فرش پر ۔ میں نے انکی گردن پر کسنگ کی مموں کو مسلا اور جھٹکے مزید تیز کر دیے ۔ اب انہوں نے سیدھے کھڑے کھڑے ہپس کو پیچھے نکالنا شروع کر دیا ۔ اس سے میرا لن مزید آسانی سے اندر باہر آجا رہا تھا ۔ یہ ایک پیغام تھا کہ لو تم نے پھدی فتح کر لی ہے اب یہ تمھاری ہی ہے جیسے مرضی چود لو ۔ 

اب میری ٹائمنگ بھی بڑھ چکی تھی ۔ آدھے گھنٹے تک آ چکا تھا ۔ عام گھریلو عورت کی لگاتار 20 منٹ چدائی سے بس ہو جاتی ہے ۔ جبکہ میں تو اوور آل ڈیڑھ گھنٹے سے اوپر ہو چکا تھا چود رہا تھا ۔ اور تیسری باری کم سے کم 20 منٹ ہو چکے تھے ۔ میرے منزل ابھی دور تھی ۔ 

میں نے ان کے بالوں کو پیچھے سے پکڑا لیکن پیار سے ۔ جیسے رسی کو ہاتھوں پر بل دیتے ہیں ایسے ہی بال اپنے ہاتھوں پر لپٹا لیے جس سے انکا سر پیچھے آگیا ۔ انکا چہرہ اب کمرے کی چھت کی جانب تھا ۔ میں نے انکے ماتھے اور آنکھوں پر پیچھے سی ہی کس کی ۔ 

ایک ہاتھ میں انکی بال لپیٹ رکھے تھے دوسرا ہاتھ انکی گردن پر تھا ۔ یہ میرے وحشی پن کا مظاہرہ تھا ۔ اور پھر کچھ ہی دیر میں میرے جسم و لن میں اکڑاو آنے لگا ۔ میں نے اب رک رک کر جھٹکے مارنے شروع کر دیے ۔ ہر جھٹکے پر امی کے منہ سے آہ اوئی ، مر گئی کی آوازیں آرہی تھیں ۔ 

میں اب بالکل نزدیک تھا میں نے انکے بال اور گردن چھوڑ دی اور انکی گردن پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ابھی فارغ ہونے ہی والا تھا کہ امی کا پانی پھر نکلنے لگا جس نے مجھ میں عجیب سا ترنگ پیدا کیا ۔ کچھ ہی سیکنڈ کے اندر اندر میں بھی پھدی کے اندر ہی فارغ ۔ 

اب تو تو فرش اور ٹانگوں پر پانی ایسے گرا جیسے کوئی پانی کی ٹنکی لیک ہو گئی ۔ 

میرا مادہ نکل رہا تھا لن کو پھدی کے اندر دبا کر رکھا ہوا تھا ۔ جونہی میرا پانی نکلا ۔ امی پر گرفت ختم کی انسے کھڑا نہیں ہوا گیا ۔ اور وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں بیڈ کے اوپر گر کے اونچے اونچے سانس لینے لگیں ۔ 

مار دیا مجھے کامی ۔ ظالم ۔۔۔۔۔۔۔..۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

لیکن میں جانتا تھا اس میں غصے کا عنصر نہیں تھا ۔ بلکہ میرے ریوارڈ یا انعام دیا امی نے ۔...